لاہور: مغلیہ دور کا عظیم شاہکار اور پاکستان کے ثقافتی ورثہ شاہی قلعے میں گاڑیوں کی پریکٹس ریس منعقد ہونے لگی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کے ثقافتی ورثے کو بااثر افراد نے والڈ سٹی اتھارٹی کی انتظامیہ سے ملکر بادشاہی قلعہ کو تفریخ گاہ بنادیا، جہاں امیر زادوں کے بچے گاڑیوں کی ریس پریکٹس منعقد کرنے لگے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی مقام پر گاڑیوں کی پریکٹس ریس کیلئے اجازت دینا باعث شرمندگی ہے جبکہ آواز کی گونج سے سیاح شدید پریشان ہیں۔
ترجمان والڈ سٹی اتھارٹی نے موقف اپنایا ہے کہ پی ایس ایل انتظامیہ اپنی گاڑیاں لیکر کر آئی تھی۔
دوسری جانب لاہور قلعہ میں گاریوں کی ڈرفٹنگ کے معاملے پر کمشنر لاہور نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ پی سی بی نے تحریری طور پر 25 اور 26 فروری کو شہر کے مختلف مقامات پر ٹرافی رونمائی کی ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت مانگی تھی جس میں تمام اداروں کو تحریری طور پر ٹرافی کی رونمائی کی ویڈیو ریکارڈنگ میں مدد کرنے کے کہا گیا تھا۔
ترجمان کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ شاہی قلعہ تاریخی اہمیت کی حامل جگہ ہے، کار ڈرفٹنگ کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی نہ ہی والڈ سٹی کو اجازت دینے کا کہا گیا، شاہی قلعہ میں کار ڈرفٹنگ سمیت کسی بھی غیر قانونی عمل کو روکنے کی مکمل ذمہ داری والڈ سٹی انتظامیہ کی تھی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کرکٹ انتہائی اہم تاہم کسی بھی سطح پر قانون کی عمل داری یا تاریخی ورثے پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ قلعہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے مغرب میں مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605ء-1556ء) نےتعمیر کروایا تھا جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہی ہیں۔