وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہٰی سے ملاقات کی، مسلم لیگ (ق) حکومت کی سب سے اہم اتحادی ہے۔
یہ پیشرفت عین اسی دن سامنے آئی جس روز اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مبینہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کیا۔
وزیراعظم اور مونس الہٰی کے درمیان یہ ملاقات تین روز قبل عمران خان کے دورہ لاہور پر کی گئی تھی۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن کے قومی اسمبلی کے اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کے بعد مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے دو ملاقاتیں کیں جبکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اتحادی ایوانِ زیریں میں عدم اعتماد تحریک کی حمایت کر چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم اور مونس الہٰی کی ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا تھا، تاہم وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے۔
مونس الہٰی نے ایک بار پھر ان کی پارٹی کے پانچ اراکین کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
رابطہ کرنے پر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر قومی اسمبلی کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ مونس الہٰی نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر سے ملاقات کی۔
میڈیا رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے مونس الہٰی کو سینئر وزیر کا عہدہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
تاہم، کابینہ کے رکن نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقیاتی فنڈز اور آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا وعدہ کیا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اسد عمر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے قریب رہیں اور ان کے مطالبات پورے کریں۔
یاد رہے دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی سے ملاقات کی تھی، جس میں ملک کے سیاسی صورت حالات اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی کوششوں پر ان کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
چوہدری برادران نے وزیر اعظم سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، اس پر بھی کچھ سوچیں جبکہ مہنگائی کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات سے اتحادی جماعت کو آگاہ کیا گیا۔
For generations our family has always honored commitments. Met @ImranKhanPTI sb with @Asad_Umar sb . Agreed on working together for Pakistan’s betterment. pic.twitter.com/Zjx8Og5Ax2
— Moonis Elahi (@MoonisElahi6) March 3, 2022