ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حافظ نعیم الرحمن کا بھینس کالونی کا دورہ،ڈیری فارمر و میٹ مرچنٹ کے عہدیداران سے ملاقات

 امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن لانڈ ھی بھینس کالونی کے دورے کے موقع پرڈیری فارمرز اور میٹ مرچنٹ ا یسوسی ایشن کے عہدیداران اور میڈ یا سے گفتگو کر ر ہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اتوار کے روز جانوروں میں پھیلنے والی جلدی بیماری کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال اورگوشت اور دودھ کی پیداوا ر اور ان کے استعمال کے حوالے سے شکوک وشبہات اور مسائل پربھینس کالونی لانڈھی کا دورہ کیااور ڈیری فارمرز و میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقات میں ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی اختر گجر ،سینئر نائب صدر اشرف گجر ،میٹ مرچنٹ کے صدر اشرف قریشی ،آل کراچی ملک رٹیلر کے خلیل انبالہ،ملک ہول سیلر ایسوسی ایشن کے خلیل کھرل ،شوکت مختار ،عبد الماجد ناگوری،ودیگر ایسوسی ایشن کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نائب امیرجماعت اسلامی کراچی عبد الوہاب، امیرضلع ملیر محمد اسلام، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی ،کنٹونمنٹ بورڈ کے کونسلر ابن الحسن ہاشمی ودیگر بھی موجو تھے۔ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی اختر گجر نے حافظ نعیم الرحمن کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ ہم جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے حالیہ دنوں میں ڈیری فارمر کو درپیش مسائل کے لیے آواز اٹھائی۔انہوں نے بتایا کہ بھینس کالونی کے دس ہزار جانوروں سے روزانہ 50 لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار ہوتی ہے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فارمرز کے خلاف سازش کی جارہی ہے، جانوروں میں بیماری کی وجہ سے کسی بھی انسان میں بیماری پھیلنے کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا، پاکستان کی تمام لیبارٹریز کے مطابق گائے کا دودھ اور گوشت کسی کے لیے بھی مضر صحت نہیں ہے۔ہم حافظ نعیم الرحمن کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے کراچی کے مسائل حل کروانے کے لیے ہر موقع پر عوام کی ترجمانی کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جانوروں میں بیماری کا مسئلہ بھینسوں کے دودھ میں نہیں گائے کے گوشت میں بتایا جارہا ہے اور اسی کو بنیاد بناکر پروپیگنڈا کرکے خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے،بھینس کا دودھ استعمال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے،گائے میں موجود بیماری کا علاج میسرہے جو کیا جارہا ہے ،ایسے مواقع پر حکومت اور متعلقہ محکمے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ،بدقسمتی سے حکومت کا کوئی رول موجود نہیں ہے، اس صورتحال میں سندھ حکومت کا کام تھا کہ ڈاکٹرز اور ایتھولوجسٹ سے مشاورت کرکے عوام میں خوف و ہراس ختم کرتی ،16 مارچ کو ادارہ نور حق میں 3 بجے گائے کے گوشت اور دودھ میں بیماری کے اثرات کے حوالے سے ماہرین کا سیشن رکھا جائے گا،سیشن میں تمام ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز سمیت تمام ایسوسی ایشن شریک ہوں گے اور اپنا مؤقف پیش کریں گے،دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے حکومتوں کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا،گوشت اوردودھ کی قیمت سرکاری سطح پر کچھ اور مارکیٹ میں کچھ ہوتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ گوشت اور دودھ کی قیمت کے حوالے سے واضح مؤقف پیش کرے،گوشت اور دودھ کی فراہمی اور استعمال ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے،ہمارے پورے نظام پرعوام کواعتماد نہیں ہے اس لیے پروپیگنڈا جنم لیتا ہے،عوام جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں اور اعتماد کو مضبوط بنائیں اور جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں،جماعت اسلامی اور الخدمت نے بیماری کے آغاز سے ہی بھینس کالونی میں اسپرے اور صفائی کا کام کروایا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں