ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

قوم حکومت گرنے کے بجائے 3 چو ہے شکار ہوتے دیکھے گی،وزیراعظم

 حافظ آباد: وزیراعظم عمران خان جلسے سے خطاب کررہے ہیں

حافظ آباد( خبرایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم آنے والے دنوں میں حکومت گرنے کے بجائے 3 چوہے شکار ہوتے دیکھے گی۔ اتوار کو پنجاب کے شہر حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ سیاست میں اس لیے نہیں آیا کہ ٹماٹر کی کیا قیمت ہے، آلو کی کیا قیمت ہے؟ میں سیاست میں صرف پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کے لیے آیا،پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک تعلیمی نصاب کے لیے آئے ہیں،پاکستان بنانے کا مقصد پتا نہیں تو ایک قوم نہیں بن سکتے، جب تک قوم برائی کے خلاف کھڑی نہ ہو تو برائی بڑھ جائے گی، ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے ظلم بڑھ جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ 25 سال سے اپنی قوم میں تبلیغ کر رہا ہوں، عظیم قوم بننا ہے تو اچھائی کا ساتھ دینا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ قوم جب بنتی ہے جب اس کا نظریہ ایک ہو، جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، بلوچستان کی آزادی کی تحریک یا پختونستان، جب تک ہم یہ نعرے نہیں چھوڑیں گے ہم ایک قوم نہیں بن سکتے، میں نے فیصلہ کیا کہ قوم کی تربیت کے لیے رحمت اللعالمین ﷺاتھارٹی بناؤں اور قوم کو بتاؤں کہ نبی کریمﷺ کی زندگی کیا تھی، انہوں ؎نے مدینے کی ریاست میں تمام مذاہب کو جمع کیا جس میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی جو کہ ایک نظریے پر جمع ہوئے۔عمران خان کے مطابق ریاست کو گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، کوئی پیسے کے زور پر حکومت گرانے کی کوشش کرے تو قوم مقابلہ کرتی ہے، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔وزیراعظم اپنی تقریر میں ‘کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘ کا طنز کرتے رہے۔ان کے الفاظ میں قوم کا لیڈر کسی کے سامنے نہیں جھکتا لیکن ہمارے حکمرانوں کی امریکی صدر کے سامنے کانپیں ٹانگ رہی ہوتی تھیں اور پرچی ہاتھ میں ہوتی ہے کہ کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے۔ انہوںنے کہا کہ میں نے یورپی یونین پر تنقید کی تو شہباز شریف، فضل الرحمن اور ’’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘‘یعنی بلاول نے کہا کہ میں نے بڑا ظلم کردیا، میں نے یورپی یونین پر ٹھیک تنقید کی، میں نے مغرب میں ایک عمر گزاری ہے اور میں ان سے زیادہ مغرب کو جانتا ہوں، میری زندگی مغرب میں گزری، جو ان کے جوتے پالش کرے وہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔عمران خان کے بقول جو ملک اپنی عزت نہیں کرتا دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، 10 سال 2008ء تا 2018ء ملک میں 400 ڈرون حملے ہوئے لیکن آصف زرداری اور نواز شریف جو حکمران تھے انہوں نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔عمران خان کا کہنا تھاکہ یورپی یونین کے سفیروں نے مجھ سے کہاڈرون حملوں کی کیوں مخالفت کررہے ہووہ تودہشت گردماررہے ہیں؟ میں نے یورپی یونین کے سفیروں سے کہاکہ لندن میں 30 سال سے ہمارا ایک دہشت گردبیٹھاہے، اس دہشت گرد نے کراچی میں جتنے قتل کیے جو دہشت گرد تم مار رہے ہو ان سے زیادہ قتل نہیں کیے، فرق یہ ہے اس نے پاکستانیوں کو قتل کیا ہے اور آرام سے لندن میں بیٹھا ہے،ہم کہتے ہیں لندن میں بیٹھا دہشت گرد ہمیں دو، آپ کہتے ہیں عدالت میں ثابت کریں، میں نے کہا ہمیں اجازت دیں گے کہ ڈرون اٹیک کرکے اسے لندن میں ماردیں ؟ اگرآپ اجازت نہیں دیں گے اور کوئی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔وزیراعظم نے بتایا کہ مغربی حکمران آپ کی عزت اس وقت کرتے ہیں جب انہیں نظر آئے کہ ہمیں اپنی ملک کی فکر ہے، جب یہاں کوئی سفیر یا حکمراں مجھ سے ملنے آتا ہے تو اس کی پوری زندگی کی تفصیلات مجھے فراہم کی جاتی ہیں اسی طرح جب ہماری حکمراں ملنے کہیں اور جاتے ہیں تو وہاں بھی ملاقات سے قبل آپ کی تفصیلات وہاں پہنچادی جاتی ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ لندن میں آپ کی پراپرٹی کتنی ہے؟عمران خان نے کہا کہ 25 سال قبل بھی قوم سے کہا تھا کہ نہ کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا، 15 سال بعد سارے مسلمان ممالک کے وزرائے خارجہ او آئی سی کانفرنس میں اسلام آباد آرہے ہیں، ہم سب ممالک سے تعلقات رکھیں گے لیکن ملکی مفاد پر سمجھوتانہیں کریں گے، پاکستان کو دنیا سے اچھے تعلقات رکھنے چاہیے، 22کروڑ پاکستانیوں کا وزیراعظم ہوں اور میری سب سے بڑی ذمے داری پاکستانیوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کروں لیکن دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے ہمیں دنیا کو مثال دینی ہوگی کہ ریاست مدینہ کے اصول کیا تھے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ جب میرے 5سال پورے ہوجائیں گے تو وعدہ ہے کہ جتنا کام ہم نے کیا ہوگا 5سال میں اتنا کام کسی حکومت نے نہیں کیا ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں