ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا نیٹو جارجیا کو رکنیت دے گا؟ شفقنا بین الاقوامی

حال ہی میں ، ترک وزیر خارجہ میولت کاووسوگلو نے نیٹو میں توسیع  کی بات کی ہے۔ اس نے بالخصوص  جارجیا کو شامل کرنےکا زکر کیا ہے۔ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم  میں بات کرتے ہوئے اس  نے کہا  مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے جارجیا کو دعوت کیوں نہیں دی یا پھر جارجیا  کو ممبر بنانے کے لیے عملی منصوبہ شروع کیوں نہیں کیا ۔”اس نے مزید کہا”ہم(ترکی) پر تنقید کی جاتی ہےکہ ہم بطور پڑوسی روس سے بہتر تعلقات کیوں رکھتے ہیں، لیکن  ہمارے مغربی دوست جارجیا کو دعوت  دینے پر رضا مند نہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ روس کو مشتعل نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن جارجیا کو ہماری  ضرورت ہے اور ہمیں جارجیا جیسے اتحادی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ہمیں اضافےکی ضرورت  کے پیش نظر  جارجیا کو ممبر بنانا چاہیے۔ "
اس  کا نقطہ نظر  خوب ہے ۔ ترکی کافی عرصے سے جارجیا کی نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا حامی رہا ہے  جبکہ دوسرے    اتحادی ممبران  ہچکچاہٹ اور تذبذب کا شکار ہیں ۔یورپ کےچند ہی ممالک  ہیں جو نیٹو کے لیے اس قدر جوش و جذبہ دکھاتےہوں  جیسا کہ جارجیا کی طرف سے دیکھنے میں آتا، ہے اگر چہ وہ ایک ممبر بھی نہیں ہے۔جب تک نیٹو – جارجیا   قریبی تعلق میں نہیں آ جاتے تب تک تبلسی وہ لکیر عبور نہیں کر سکتا  جو ممبرشپ میں داخل ہونے کی حتمی لکیر ہے۔
جارجیا کی اتحاد میں شمولیت کی جدوجہد
جارجیا اتحاد میں شامل ہونےکےلیے ایک عشرےسے جدوجہد کر رہا ہے۔ 2008 میں نیٹو کی بخارسٹ کانفرنس میں جارجیا وہ پہلا ملک تھاجس سے متوقع ممبر شپ کا وعدہ کیا گیا تھا۔  اس وقت سے اب تک، نیٹو کی ہر کانفرنس میں جارجیا کی ممبر شپ کے عہد کا اعادہ کیا جاتا رہا  ہے۔جیسا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل، جینز  سٹولٹن برگ نے 2016 میں  کہا تھا "جارجیا کے لیے نیٹو کی ممبر شپ حاصل کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔”اس لیے ھقیقی ممبرشپ کی جانب پیش رفت میں تاخیر جارجیا کے لیے پریشان کن ہے۔وزیر خارجہ ‘ کاوسوگلو یہ کہنے میں حق بجانب تھا کہ” ہمیں  جارجیا جیسے اتحادی کی ضرورت ہے۔”جارجیا اتحاد کےلیے بعض نمایاں وجوہات کی بناپر ضروری ہے۔
جارجیا کی خدمات اور اس کی جیوپولیٹیکل  اہمیت
سب سے پہلے تو جارجیا  نے اپنے آپ کو 2012میں ایک قابل بھروسہ اتحادی ثابت کیا ہے، جب بہت سے نیٹو ممالک افغانستان میں داخلے کے لیے بھاگ رہے تھے تو جارجیا نے مشن کے لیے اپنے سینکڑوںسپاہی دیے ۔اپنی خدمات کی بلند ترین سطح پر  ، افغانستان میں جارجیا کے دو ہزار سے زیادہ سپاہی موجود تھے اور ان میں سے بعض سپاہی  دنیا کی نہیں تو افغانستان کی خطرناک جگہوں  ہلمند اور قندھار میں موجودتھے۔ آج افغانستان میں جارجیا کے 900 کےقریب سپاہی موجود ہیں، جو اسے نیٹو کے ٹریننگ مشن میں سب سے بڑا نان نیٹو حصہ دار بناتے ہیں۔
دوسرے، جارجیا کی سٹریٹجک لوکیشن  اسے نیٹو کےلیے اہم  بناتی ہے۔ چند ہی ممالک ہونگے جو  اسے ترکی سے زیادہ بہتر سمجھتے ہونگے۔ جنوبی کاکیشیا میں واقع جارجیا ایک بہت اہم جغرافیائی اور ثقافتی دوراہے پر اپنا وجود رکھتاہے ، اور اس نے اپنے آپکو  فوجی اور معاشی اسباب کی خاطر سٹریٹجک طور پر اہم ثابت کیا ہے۔آج جارجیا کا  سٹریٹجک محل وقوع اسی قدر اہم  ہے۔ جارجیا نے نیٹو فوجوں اور کارگو کی افغانستان منتقلی کے لیے  اپنا علاقہ ، اپنا انفراسٹرکچر اور لاجسٹک  صلاحیت کو   پیش کیا ہے۔
کئی سال کے عرصے میں جارجیا نے  اپنے ملک میں کئی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو جدید بنایا ہے۔ یہ اس وقت بالخصوص زیادہ اہم بن جاتا ہے جب معاملہ بحیرو اسود کےخطےکا ہو۔ کئی اہم پائپ لائنیں، جوکہ حال  ہی میں کھلنے والی باکو-تبلسی-کارس ریلوے ریل لائن کی طرح ہی اہم ہیں  جیسا کہ باکو-تبلسی-سی ہان پائپ لائن باکو-سپساپائپ لائن ، اور جنوبی گیس راہداری باکو سے گزرتی ہیں ۔علاقائی استحکام کی خاطر یہ امریکہ کے لیے اہم ہے کہ جارجیا اسی راستے پر رہے۔ کئی سالوں سے  یکے بعد دیگرے آنے والی جارجین حکومتوں نے معیشت کی آزادی، افسر شاہی میں کمی ، کرپشن کے خلاف جنگ اور جمہوریت کو قبول کرنے کے راستے پر اپنا سفر جاری رکھا  ہے۔  2003 کے گلابی انقلاب’ (Rose Revolution) کے وقت سے اب جارجیانے’ ٹرانس  اٹلانٹک'(Transatlantic)برادری سے مضبوطی سے اپنے عہد قائم  رکھا ہوا ہے۔
روس نے جارجیا کے بیس فی صد علاقے پر قبضہ کیا  ہوا ہے ا ور جارجیا  کو اتحاد میں  شامل  کرنے  کی دعوت کے سلسلے میں نیٹو ممبران   اس  پر فکرمند ہیں۔ روس نے جنوبی اوسیٹا کے ٹسکن ولی علاقے ور ابخیزیا  پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔اور روس جانتاہےکہ یہ جارجیا کو نیٹو اور دوسری بین الاقوامی  تنظیموں میں شمولیت سےباز رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ یہ ایک حقیقی ویٹو ہے جو ماسکو کے پاس ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔خوش قسمتی سے کچھ قوتیں ایک تخلیقی انداز سے اس خیال کےساتھ سامنے آئی ہیں کہ روس کے ساتھ جنگ کیے بغیر کس طرح جارجیا کو نیٹؤ میں شامل کیا جا سکتاہے۔ اب واحد سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا اٹلانٹک کے دونوں طرف رہنے والے رہنماؤں کے پاس اس قدر سیاسی قوت ارادی اور تخلیقی سوچ موجود ہے  جو جارجیا کی نیٹو رکنیت کو ممکن بنانے کےلیےضروری ہے۔
جارجیا یورپ میں اس  خیال کی بھی نمائندگی کرتا ہے کہ ہر ملک اپنا راستہ منتخب کرنے کی خود مختارانہ قابلیت  رکھتا ہےاور یہ کہ وہ کس کے ساتھ اپنا تعلق رکھنا چاہتا ہے اور اس پر کسے اور کس طریقے سے حکمرانی کرنے کا حق ہے۔ اس کےعلاقائی سالمیت کا  احترام کرنا  چاہیے اور اور کسی  بھی بیرونی عامل( اس معاملے میں روس بیرونی عامل ہے)  کے پاس اس امر کا اختیارنہیں ہونا  چاہیے کہ اس ملک کو کس تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کا حق ہے یا کسی دوسری تنظیم  جیسا کہ نیٹو ہےسے تعلق رکھنا  چاہیے یا  نہیں۔جارجیا نے اپنی فوج کو بدلا ہے اور اس کی ملٹری نیٹو اور ساتھ ہی نان نیٹو سمندر پار سیکورٹی آپریشنز کو مستقل مزاجی سے تقویت دیتی رہی ہے۔ جارجیا نے افغانستان اور عراق میں ہزاروں فوجی بھیجے ہیں اور افریقہ اور بالکن ممالک میں  سینکڑوں امن محافظ فوجی روانہ کیے ہیں۔
حتٰی کہ روس کی جارحیت اور اس کے بعد کےاثرات کے باوجود جارجیا نے مغرب سے قریب ہونے کا راستہ ترک نہیں کیا ۔ اس نے جارجیا کو ٹرانس  اٹلانٹک سیکورٹی کا  نقد  حصےدار بنا دیا۔اب وقت ہے کہ رکنیت کے اس معاملے پر اتحاد کو پیش رفت کرنا چاہیے اور وزیر خارجہ کاووسوگلوکی نصیحت پر عمل کرتےہوئے جارجیا کو نیٹو میں شامل کر لینا چاہیے۔
پیر، 14 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا نیٹو جارجیا کو رکنیت دے گا؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں