کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بھر میں جانوروں میں جلدی بیماری کا پھیلا ئو رک نہ سکا‘ لمپی اسکن سے متاثرہ مویشیوں کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ جانوروں میں شرح اموات بھی ڈھائی فیصد ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق لمپی اسکن بیماری سے متاثرہ جانوروں کی بڑی تعداد کراچی میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق بیماری کے باعث 171 جانور مر گئے ہیں۔ شہر قائد میں15 ہزار 899 کیسز رپورٹ ہو چکے جبکہ ایک روز میں 955 کیسز سامنے آئے ہیں اور 20 جانور مر ے۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ میں 46 اور خیر پور میں27 جانور مرے ہیں‘ متاثرہ جانوروں کی تعداد 25 ہزار 266 ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ جانور کو کاٹنے والے مچھر یا مکھی وائرس کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ دوسری جانب لمپی اسکن کی بیماری آنے سے کراچی میں مرغی کی فروخت اور اس کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ ایک کلو مرغی کا گوشت540 روپے جبکہ زندہ مرغی340 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے‘ اس کے علاوہ کراچی میں شہری اب بھی گائے کا گوشت بیچنے والوں کی دکانوں پر آنے اور گوشت خریدنے سے کترا رہے ہیں اور دکان داروں کو روزگار کے لالے پڑگئے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کراچی اور پنجاب کی 2 کمپنیوں کو جانوروں کی بیماری لمپی اسکن کی ویکسین منگوانے کی منظوری دیدی ‘منظوری ڈریپ رجسٹریشن بورڈ کے اجلاس میں دی گئی ۔اس ضمن میں ڈریپ حکام نے بتایاکہ لمپی اسکن نامی بیماری سے اس وقت پاکستان میں ہزاروں مویشی متاثر ہیں‘ بیماری کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔