ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومت اپوزیشن بیک ڈور رابطے ، او آئی سی اجلاس تک کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

اسلا م آباد( نمائندہ جسارت) ملک میں سیاسی کشیدگی او آئی سی اجلاس تک کم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے او آئی سی تک ملک میں کوئی بڑی سیاسی سرگرمی نہیں ہوگی، اگر ضرورت ہوئی تو پی ڈی ایم کا لانگ مارچ او آئی سے کے اجلاس کے بعد اسلام آباد آئے گا یہ فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان او آئی سی اجلاس کے لیے خاموش رابطوں کے بعد ہوا ہے سیاسی کشیدگی میں کمی اہم شخصیات کی مداخلت کے باعث ہوئی ہے او آئی سی اجلاس میں اس خطہ کے ایک اہم اور بڑے ملک کو بھی مدعو کیا گیا ہے جن کے پاکستان میں نمائندوں نے سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کی ہے حکومت نے او آئی سی اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا اجلاس 29مارچ کو کرانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس 22 اور 23 کو ہو رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 29 مارچ کو کرانے کا امکان ہے،تحریک انصاف کے 4 باغی ایم این ایز جن میں فیصل آباد سے راجہ ریاض، مظفر گڑھ سے باسط سلطان بخاری، ْجڑانولہ سے نواب شیر وسیر، پشاور سے نور عالم خان منظر عام پر آجانے سے تحریک انصاف کی صفوں میں خاموشی بڑھ گئی ہے اور اسلام آباد میں جاری سیاسی سرگرمیوں میں اہم نیاموڑ آگیا ہے جن کا تعلق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے ہے حکومت کے انتہائی قریبی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک نے حکومت کی رٹ بہت حد تک متاثر کردی ہے، اب وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی، اسلام آباد میں تحریک انصاف کے غائب ارکان کے منظر عام پر آجانے کے بعد ایک اطلاع یہ بھی ہے ایک پارلیمانی سیکرٹری سمیت کابینہ کے بھی متعدد وزراء اپنی وفاداری تبدیل کرسکتے ہیں اور اب یہ بات تقریباً طے ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ حکومت کسی بھی رکن اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکے گی، جمعرات کو بھی وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں سے مشاورت کی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر بھی اس مشاورت میں شریک ہوئے، وزیر اعظم ہائوس میں وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ترجمانوں کا اجلاس بھی ہوااجلاس میں وفاقی وزراء ، فوادچودھری، بابر اعوان، خسرو بختیار، شہزاد وسیم، حماد اظہر شبلی فراز، فرخ حبیب، عامر ڈوگر، مراد سعید، پرویز خٹک اور دیگر شامل تھے، وزراء نے سندھ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خواجہ شیراز کو منانے کی کوشش کی ہے تاہم کامیابی نہیں ہوئی ان سب ارکان کا کہنا ہے کہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے،اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد وزیرِاعظم کو عہدے سے ہٹانے کے آئینی اور قانونی عمل کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ قومی اسمبلی ارکان کی کُل تعداد کے 20 فیصد یا 68 اراکین کی حمایت یافتہ اس تحریک عدم اعتماد کو تمام اراکین اسمبلی کو بھجوانا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی قوانین کے سیکشن 36 اور آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور تحریک پر ووٹنگ کرانے کے لیے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست بھی دینا ضروری ہوتی ہے جو دے دی گئی ہے جس پر اسمبلی ارکان کی کل تعداد کے 25 فیصد یا 86 اراکین کے دستخط ہیں اب اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہے آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے مطابق تحریک عدم اعتماد وصول کیے جانے کے 14 روز کے اندر اسپیکر جس وقت اور مقام کو مناسب سمجھے وہاں اسے اجلاس طلب کرنا ہوتا ہے 23 مارچ اسمبلی کا اجلاس بلانے کی آخری تاریخ بنتی ہے او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے باعث یہ اجلاس قومی اسمبلی میں 22 اور 23 مارچ کو منعقد ہوگا، اجلاس شروع ہوجائے توتحریک عدم اعتماد کو پیش کیا جاتا ہے اور یہ آرڈر آف دی ڈے (ایجنڈا) میں شامل ہوگی، متعین کردہ دن اور وقت پر تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں میں سے کسی ایک کو قرارداد پیش کرنے کے لیے ایوان کی اجازت حاصل کرنے کا کہا جائے گا،اگر عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی کے اسپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف ہوگی تو کم از کم 25 فیصد اراکین کو کھڑے ہوکر تحریک پیش کرنے کی اجازت دینا ہوگی تاہم اگر یہ تحریک عدم اعتماد وزیرِاعظم کے خلاف ہو تو اس ضمن میں آئین، قانون یا رولز کے اندر کوئی خاص طریقہ بیان نہیں کیا گیا،آئین کے آرٹیکل 55 کا اطلاق ہوگا جس کے تحت قومی اسمبلی کے تمام فیصلے حاضر اور ووٹ دینے والے ممبران کی اکثریت سے کیے جائیں گے اسپیکر ایوان میں تحریک پیش کرنے کی اجازت ایوان سے لیں گے اجازت نہ ملی تو سمجھاجائے گا حکومت کی اکثریت ہے ایسی صورت میں تحریک عدم اعتماد وہیں دم توڑ جائے گی اگر اجازت حاصل ہوگئی تو تحریک جمع کرانے والے اراکین میں سے کم از کم کوئی ایک فرد باقاعدہ طور پر قرارداد پیش کرے گا اس کے بعد اس پر قرارداد پر بحث کی جائے گی اسپیکر اس حوالے سے ایک یا ایک سے زائد دن مختص کرسکتا ہے عام طور پر تحریک پیش کرنے والے ایک یا ایک سے زائد اراکین اس کی غرض و غایت بیان کرتے ہیں اور قرارداد کی مخالفت کرنے والوں کو بھی بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس بات کا بھی بہت حد تک امکان ہے کہ وزیرِاعظم جس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی ہو وہ بھی بات کرے اور وضاحت دے کہ اس کے خلاف یہ تحریک کیوں جائز نہیں ہے اس بات کا انحصار مکمل طور پر اسپیکر پر ہے کہ کتنے اراکین بات کریں گے اور ہر رکن کو کتنا وقت دیا جائے گا اس تحریک پر ووٹنگ تحریک پیش کیے جانے کے 7 روز کے اندر کرانی ہوتی ہے اس کے علاوہ تحریک جمع کرائے جانے کے 3 روز کے اندر بھی ووٹنگ نہیں کرائی جاسکتی۔تحریک عدم اعتماد کا پانچواں اور آخری مرحلہ ووٹنگ کا ہے اس کام کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جس میں اسپیکر کی جانب سے قرارداد پڑھ کر سنائی جاتی ہے اور پھر اراکین سے کہا جاتا ہے کہ وہ ووٹنگ کے لیے متعین دروازوں میں سے کسی ایک سے گزر جائیں۔ ان دروازوں پر موجود عملہ ووٹ کا اندراج کرتا ہے عملہ باآواز بلند رکن کا نام بھی پکارتا ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ اس کا ووٹ درج کرلیا گیا ہے۔جب ووٹ دینے کے متمنی تمام اراکین اپنی رائے دے چکے ہوتے ہیں تو اسپیکر کی جانب سے انہیں ایوان میں واپس بلایا جاتا ہے اور نتیجے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اگر قرارداد کے حق میں 172 یا اس سے زیادہ ووٹ آجائیں تو وہ منظور ہوجاتی ہے اور وزیرِاعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنا ہوتا ہے۔وہ تمام اراکین پارلیمنٹ جنہوں نے تحریک عدم اعتماد پر اپنی جماعت کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیا ہوتا ہے انہیں جماعت کے سربراہ کی جانب سے منحرف قرار دیا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے اسپیکر اور چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کیا جاسکتا ہے لیکن الیکشن کمیشن کے پاس اس پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت فیصلہ دینے کے لیے 30 دن کا وقت ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متاثر ہونے والے فریق کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہوتا ہے اور سپریم کورٹ کے پاس اس اپیل پر فیصلہ سنانے کے لیے 90 روز ہوتے ہیں۔ جب تک الیکشن کمیشن کسی رکن کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کردیتا تب تک وہ رکن اسمبلی تمام مراعات حاصل کرتا رہے گا۔ اگر اس کا کوئی ووٹ جماعت کی ہدایات کے برخلاف ہو اور اس کی وجہ سے اسے نااہل بھی کردیا گیا ہو تب بھی اس کا ووٹ شمار کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں