اسلام آباد(اے پی پی)الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب اور عدم اعتماد کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، یہ تمام کارروائی اسپیکر قومی اسمبلی بطور پریذائیڈنگ آفیسر سرانجام دیتا ہے ، آئین کے آرٹیکل 63اے میں ارکان پارلیمنٹ کے انحراف کی وجہ سے نااہلی کا طریقہ کار دیا گیا ہے، قانون سازی کے ذریعے اگر وزیراعظم کے انتخاب اور عدم اعتماد کے حوالے سے ضروری اختیارات الیکشن کمیشن کو تفویض کیے جائیں تو الیکشن کمیشن یہ فریضہ سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیشن ونگ کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف فورم پر اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی طرف سے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور اس سے متعلقہ ارکان پارلیمنٹ کی مبینہ فلور کراسنگ کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کوعملی اقدام نہیں اٹھا رہا۔ الیکشن کمیشن کے لیے ان حالات میں اپنی آئینی اور قانونی ذمے داری کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 218 ون اور 219 کے تحت مجلس شوریٰ ، صوبائی اسمبلیوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر انتخابات کے انعقاد کی ذمے داری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کو صدر پاکستان کے انتخاب کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 41 (3) اور سیکنڈ شیڈول کے تحت حاصل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 91 (4) میں وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار دیا گیا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت عدم اعتماد کی تحریک کی کارروائی ہوتی ہے جس کا طریقہ کار قومی اسمبلی کے وضع کردہ قواعد و ضوابط مجریہ 2007 کے رول 37 او رسیکنڈ شیڈول کے مطابق ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مذکورہ بالا آئین و قوانین کی شقوں اور رولز آف بزنس کے تحت یہ واضح کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب اور عدم اعتماد سے متعلق الیکشن کمیشن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس انتخاب اور عدم اعتماد کی تمام کارروائی سپیکر قومی اسمبلی بطور پریذائیڈنگ آفیسر انجام دیتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں ارکان کے انحراف پر ان کی نااہلی کا طریقہ کار دیا گیا ہے جس کے مطابق پارٹی کا سربراہ تحریری طور پر متعلقہ رکن پارلیمنٹ کے انحراف سے متعلق اعلامیہ جاری کرے گا اور اس کی کاپی پریذائیڈنگ آفیسر اور چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کرے گا ۔ مزید یہ کہ انحراف کے اعلان سے پہلے پارٹی سربراہ متعلقہ ممبر کو سننے کا موقع دے گا۔ اس کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر (اسپیکرقومی اسمبلی ) 2دن کے اندر انحراف کے متعلقہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائے گا اور اگر وہ2دن کے اندر ایسا نہیں کرتا تو یہ سمجھا جائے گا کہ انحراف کا اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو موصول ہو چکا ہے اور چیف الیکشن کمشنر اعلامیہ کو کمیشن کے سامنے پیش کرے گا جس پر الیکشن کمیشن 30یوم کے اندر فیصلہ کرے گا۔ الیکشن کمیشن کا کردار ممبر پارلیمنٹ کے انحراف ، پارٹی سربراہ کے اعلامیہ اور اسپیکر کی طرف سے اعلامیہ الیکشن کمیشن کو موصول ہونے کے بعد شروع ہوگا۔ اگر الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کے الیکشن کے انعقاد اور عدم اعتمادسے متعلق ضروری قانون سازی کے ذریعے با اختیار کیا جائے اورضروری اختیارات تفویض کیے جائیں تو الیکشن کمیشن اس فریضہ کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔