فلم ساز وویک رنجن اگنی ہوتری کی پاکستان سے نفرت اور مسلم مخالف فلم ’دی کشمیر فائلز‘ میں پاکستان کے شہرہ آفاق انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی لازوال نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو شامل کرنے پر پاکستانی شائقین نے بھارتی فلم ساز پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
’دی کشمیر فائلز‘ کو کچھ دن قبل ریلیز کیا گیا تھا، جس کی کہانی 1990 میں مقبوضہ کشمیر میں کی گئی نسل کشی پر مبنی ہے لیکن حیران کن طور پر فلم میں مسلمانوں کے بجائے پنڈتوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
’د کشمیر فائلز‘ کی کہانی اور ہدایات وویک رنجن نے دی ہیں جب کہ وہ فلم کے شریک پروڈیوسر بھی ہیں۔
وویک رنجن کی اہلیہ اداکارہ پلوی جوشی نے بھی فلم میں اہم کردار ادا کیا ہے جنہیں ایک طرح سے پاکستانی مہرے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
فلم کو ریلیز کیے جانے کے بعد جہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت دیکھی گئی، وہیں دنیا بھر میں فلم پر حقائق کو غلط پیش کرنے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
فلم کو بھارتی سینماؤں میں دکھائے جاتے وقت بھارتی مسلمانوں کے غدار ہونے اور انہیں ملک سے نکالنے کے نعرے بھی سنائی دیے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پوسٹس دیکھی گئیں۔
حیران کن طور پروپیگنڈا کے لیے بنائی گئی پاکستان اور مسلمان مخالف فلم میں فیض احمد فیض کی جانب سے ظلم کے خلاف لکھی گئی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو بھی شامل کرلیا گیا۔
The hard-hitting song #HumDekhenge from #TheKashmirFiles will touch your hearts. SONG OUT NOW!https://t.co/XAn54dvqcG@mithunda_off @AnupamPKher @DarshanKumaar #ChinmayMandlekar @vivekagnihotri @ImPuneetIssar @bhashasumbli #PrakashBelawadi @AtulShree62 @mrinal_kulkarni pic.twitter.com/GIyeNb5If4
— Zee Music Company (@ZeeMusicCompany) March 16, 2022
’ہم دیکھیں گے‘ کو فلم میں مقبوضہ کشمیر میں خانہ جنگی اور تشدد کے دوران انتہاپسند مسلمانوں کے کردار ادا کرنے والے اداکاروں پر فلمایا گیا ہے۔
Faiz Ahmed Faiz is turning in his grave at his poetry being used for Neo-Nazi Propaganda. https://t.co/ea6nkeMPgo
— Uday Rana (@UdaySRana) March 19, 2022
’ہم دیکھیں گے‘ کو فلم میں دہشت گرد اور کشمیری ہندو پنڈتوں کے قتل میں ملوث افراد یا وہاں پر قتل عام کی سازش تیار کرنے والے اداکاروں پر فلمایا گیا ہے، جس سے پاکستانی شائقین نالاں دکھائی دیے۔
Faiz would have never thought that his poetry, one day would be used by Bakhts in a movie that maligns the very people of Kashmir, the Kashmir he loved, and where he got married to the love of his life. https://t.co/HxeiWqrlsK
— Aizzan Malik 🇵🇰 (@MAizzanMalik) March 19, 2022
’ہم دیکھیں گے‘ کی مختصر ویڈیو کلپ کو ’زی میوزک‘ کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا تو لوگوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور لکھا کہ حیران کن طور پر ظلم کے خلاف لکھی شاعری کو ظلم کو چھپانے کے لیے بنائی گئی پروپیگنڈا فلم میں شامل کیا گیا ہے۔
The irony of using Faiz’s nazam (which was originally written against an oppressive regime) for a propaganda film about Kashmir….
The irony and the DISRESPECT! https://t.co/BBpHzoMHCL— 🐾 (@MMusingsbym) March 18, 2022
نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی لوگ بھی اس پر حیران دکھائی دیے کہ ظلم کے خلاف لکھی گئی فیض کی شاعری کو نیو نازی ازم پروپیگنڈا کے لیے بنائی گئی فلم میں شامل کرلیا گیا۔
The Bollywood film, made for propaganda, includes poetry written against oppression۔
Faiz wrote this poem against the oppression but Indians are using it to cover up their oppression #HumDekhenge #TheKashmirFiles #faiz https://t.co/B0eEOKfTLx
— Sagar Suhindero (@Rahimbuxsagar) March 19, 2022
بعض لوگوں نے بھارتی فلم ساز کی بے وقوفی پر بھی طنز کیا کہ انہوں نے نظم کی شاعری کو سمجھے بغیر ہی اپنی فلم میں شامل کرلیا، لوگوں نے انہیں بتایا کہ دراصل فیض نے کشمیر میں ہونے والے مظالم جیسے مظالم کے خلاف ہی شاعری لکھی تھی۔
I mean… is FAIZ turning in his grave or is he actually grinning from side to side that his poem which is literally a threat to tyrants is being propagated BY THE TYRANT HIMSELF https://t.co/BPPXLHnCdh
— Husn Hai Suhana (@Fatmounh) March 19, 2022
کچھ لوگوں نے لکھا کہ فیض احمد فیض نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کی ظلم کے خلاف لکھی گئی نظم ایک دن مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے خلاف ہی استعمال ہوگی۔
کچھ لوگوں نے فلم کی ٹیم پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے فیض احمد فیض کی شاعری کو اجازت کے بغیر چوری کرکے فلم میں شامل کیا ہے۔
Literally stealing Faiz’s poetry and Pak’s song to be used in an Anti-Pakistan movie full of lies.
— Shanzeh (@shanzayyyyyyyy) March 19, 2022
تاہم ایسے لوگوں کو جواب دیتے ہوئے فلم ساز وویک رنجن اگنی ہوتری نے واضح کیا کہ انہوں نے ’ہم دیکھیں گے‘ کی شاعری کو چوری نہیں کیا بلکہ انہوں نے آفیشلی طور پر ’فیض محل لاہور‘ سے اس نظم کو استعمال کرنے کی اجازت حاصل کی۔
We have officially taken rights of Faiz Sahab’s poetry from the Faiz House in Lahore. Please don’t spread fake news. https://t.co/TCcS2nBNhY
— Vivek Ranjan Agnihotri (@vivekagnihotri) March 19, 2022
فلم کی ٹیم نے گانے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس میں شاعر کا نام فیض احمد فیض بھی درج کیا ہے، تاہم یوٹیوب پر ان کا نام غلط لکھا گیا ہے اور انہیں فیض احمد فیض کے بجائے ’فیض انور فیض‘ لکھا گیا ہے۔