کراچی(نمائندہ جسارت)جرمن اسکول اورنگی ٹاؤن کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ، عدالت نے کے ایم سی کو علاقے کا ماسٹر پلان اور جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا سندھ ہائی کورٹ میں جرمن اسکول اورنگی ٹائون کی زمین سے متعلق سماعت ہوئی، جہاں پرائیویٹ افراد کی جانب سے لیز کے دعوے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ رفاہی زمین ہے کیسے الاٹ ہوگئی ؟ کے ایم سی کی ذاتی زمین ہے جسے چاہے الاٹ کردے ؟جس کا دل چاہتا ہے زمینوں پر قبضہ کرلیتا ہے ، اتنی بڑی اراضی پر تو یونیورسٹی بن سکتی ہے۔عدالت نے کے ایم سی کو علاقے کا ماسٹر پلان اور جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 4 ہفتے کے لیے ملتوی کردی جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف حکم امتناع برقرار رکھا۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ کاموقف ہے کہ انڈس اسپتال نے اس زمین پر اسپتال بنانے کی تجویز دی ہے،رفاہی پلاٹس کی لیز کسی انفرادی شخص کو جاری نہیں کی جاسکتی،اورنگی ٹائون میں جرمن اسکول کے نام سے طویل عرصے سے اسکول چلایا جارہا تھا،فرخ ڈار اور دیگر کا زمین کی ملکیت کا دعویٰ درست نہیں،زمین کی لیز ہمیں جاری کی گئی ہے، تعمیرات کی اجازت دی جائے ۔