
جدہ (سید مسرت خلیل) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کہا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تحریک میں نوجوانوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ وہ جدہ میںاپنے اعزاز میںدیے گئے ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جو یوم پاکستان اور ہماری ذمہ داریوںکے عنوان کے تحت منعقدکی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان کے دوران بعض علما قائد اعظم سے کہتے تھے کہ بھارت میں بہت سی مختلف قومیتیں رہتی ہیں اس لیے یہ ایک قوم ہے اور علیحدہ وطن کی ضرورت نہیں۔ مگر مولانا مودودی نے مسئلہ قومیت کتاب لکھ کر یہ واضح کیا کہ مختلف الخیال قومیں کسی ایک جگہ رہنے سے قوم نہیں بنتیں بلکہ قومیں نظریہ اور عقیدے کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ بھارت میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان اور پاکستان کا قیام بھی اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد بنا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان کا دستور وہی ہوگا جو ہمیں قرآن نے دیا ہے۔ ہماری معیشت اور ہمارا سیاسی نظام قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں پر ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے قائد اعظم کو وہ ٹیم میسر نہیں آسکی جو ملک میں اسلامی نظام نافذ کرسکے اور پاکستان کے قیام کے اگلے سال ہی قائد اعظم کی رحلت سے اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ ان کے بعد ملک میں اقتدار پر وہی لوگ قابض رہے جو مسلمان تو تھے مگر اسلام سے ان کو کوئی لگاؤ نہیں تھا اور نہ ہی ان کا ذہن اسلامی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے جہاں انصاف کا بول بالا ہو، جہاں غریب کے بچے بھی اعلی تعلیم حاصل کر سکیں، عوام کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست جماعت اسلامی ہی بنا سکتی ہے کیونکہ اس کے پاس ایسی ٹیم ہے جو ایماندار ہے اور ملک کو صحیح سمت میں چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی دعوت عام ہے اور اس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ کراچی میں بلدیاتی قانون پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم نے کراچی میں29 دن کا طویل دھرنا دیا جس کے نتیجے میں اور ہماری کوششوں سے سندھ حکومت نے بلدیاتی قانون واپس لیا اور اہل کراچی کو بہت بڑا ریلیف ملا۔ جماعت اسلامی حقیقی معنوں میں اہل کراچی کے حقوق کے لیے جد وجہد کر رہی ہے۔ کراچی کی حالت بہتر بنانے کے لیے جماعت اسلامی “حق دو کراچی کو” کی مہم لے کر نکلی ہوئی ہے اور ہم کراچی شہر کراچی کے عوام کی بہتری کے لئے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ الحمدللہ ہم نے کچھ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں جن میں سر فہرست کے الیکٹرک کی اوور بلنگ ختم کرانے اور متاثرین بحریہ ٹاؤن کے بقایا جات دلانے جیسے مسائل ہیں۔ الخدمت کی فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ الخدمت کراچی سمیت پورے پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور بلا تفریق عوام کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچا رہی ہے خواہ وہ سیلاب ہو یا کورونا کی وبا، الخدمت کی ٹیم میدان میں اتر کر ریلیف کا کام کر رہی ہے۔ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری آج تک اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حق خود ارادیت کشمیریوں کا حق ہے۔ غاصب بھارت بندوق کے زور پر کشمیریوں کو دبا رہا ہے اور آئے دن نہتے مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہا ہے اور عورتوں بچوں تک کو شہید کررہا ہے۔ کشمیر کی آزادی کے لیے ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔ ان کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور ان شاء اللہ کشمیر بہت جلد آزاد ہو کر رہے گا۔ استقبالیہ سے آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت عبدالرحمن ظہیر نے حاصل کی۔ احمد بن زبیر نے قومی ترانہ پیش کیا۔ وسیم چودھری نے حافظ نعیم الرحمن کا تعارف کرایا۔ تقریب میں پاکستانیوںکی کثیرتعدادنے شرکت کی۔