کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) پاکستان کی سیاست میں ذاتیات، ِالزام تراشیاں، کردار کشی، لعن طعن اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنے کا کھیل ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ سیاست میں ذاتیات، عناد ،حسد اور ذاتی مفادات شامل ہو جائیں تو پھر ایسی سیاست قوموں کے زوال کا باعث بن جاتی ہے، سیاست صبر وتحمل کا نام ہے اگر سیاست کرنی ہے تو اپنے اندر برداشت پیدا کرنا ضروری ہے،سیاست میں ذاتیات کی بجائے کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے ،قومی مسائل اور ایشوز کا حل قومی جذے کا عملی اظہار ہماری سیاست کا مرکز و محور ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی،معروف ماہر تعلیم ،علمی ادبی شخصیت ،ممتاز دفاعی تجزیہ نگار اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی،ممبر ایڈوائزری کمیٹی پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سیمابیہ طاہر ستی اورپاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے سوال : پاکستانی سیاست میں ذاتیات کا بڑھتا ہوا رجحان کیا بتا رہا ہے؟ کے جواب میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ محمد حسین محنتی نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں نفرت اور شدت پسندی نے سیاست میں عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا ہے، دلیل کی بجائے گالی اورعدم برداشت کے رویہ نے سیاست کو بدنام،سیاسی اداروں کی توقیر اورسیاستدانوں کا تقدس ختم ہوگیا ہے۔ سیاست نام ہے ملک وقوم کی خدمت کا جوکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے اگر مقصد خدمتِ خلق ہو اور نیت صاف ہو تو یقینا سیاست عبادت ہے، لیکن اگر سیاست میں ذاتیات، عناد ،حسد اور ذاتی مفادات شامل ہو جائیں تو پھر ایسی سیاست، عبادت تو دور کی بات ،قوموں کے زوال کا باعث بن جاتی ہے،پاکستان کی سیاست میں عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی افسوسناک ہے، ملکی سیاست عدم برداشت کا شکار ہے جبکہ اب سیاسی اختلافات کو ذاتی اختلافات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ذاتی مفادات کی سیاست سے معاشروں میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے،بعض نومولود سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سیاست میں گالی کلچر اور جارحانہ رویے نے آج ملکی سیاست کواس مقام تک پہنچایا ہے ۔ملکی سیاست میں سب سے بڑا جنگ و جدل کا ماحول ہمارے سیاست دانوں نے پیدا کر رکھا ہے۔ایک دوسرے سے نفرت، بول چال بند، میل ملاقات ختم اور اوپر سے سخت زبان، حتیٰ کہ گالم گلوچ، خاندان پر حملے، کردار کشی اور عدم برداشت نے سیاست کے اصولوں کو پامال کرکے رکھ دیا گیا ہے جس کے اثرات نیچے کارکنوں تک پہنچ چکے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کو غصے، نفرت اور باہمی دشمنی کی جنگ میں تبدیل کرکے حکمران اور اپوزیشن پارٹیز ملک اور قوم کی خدمت کی بجائے ہماری نسل نو کو نفرت کی آگ میں دھکیل رہے ہیں جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔اس منفی رجحان کے خاتمے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں ذاتیات، ِالزام تراشیاں، کردار کشی، لعن طعن اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنے کا کھیل ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ سیاست دان اور سیاسی جماعتوں سمیت ان کے سیاسی کارکن مسائل کی بنیاد پر گفتگو کم اور ذاتیات پر مبنی گفتگو کر کے سیاسی ماحول کو زیادہ بدنما کرتے ہیں۔ اس کھیل میں سب ہی سیاسی جماعتیں، کارکن اور ان کی قیادتیں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اخلاقیات سے عاری اور غیرشائستہ انداز تخاطب اپنایا جا رہا ہے۔سیاسی مخالفت میں نفرت اور رویے میں شدت پسندی نے سیاست میں عدم برداشت کے کلچرکو فروغ دیا ہے اور عدم برداشت کا بڑھتا ہوا یہ رجحان انتہائی افسوسناک اور بہت ہی نقصان دہ ہے۔ہمارے سیاسی رہنما اپنے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے شائستگی، تہذیب اور اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے فالورز کی سیاسی تربیت اس انداز میں کریں کہ مخالفت میں حد سے نہ گزریں۔ پارٹی ورکرز اپنے خیالات اور سیاسی وابستگی کا اظہار ضرور کریں لیکن اخلاق کے دائرے سے باہر نہ نکلیں۔حکومت اور حزب اختلاف دونوں اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں‘ اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ سیمابیہ طاہر ستی نے کہا کہ سیاست صبر وتحمل کا نام ہے اگر سیاست کرنی ہے تو اپنے اندر برداشت پیدا کرنا ضروری ہے،سیاسی مخالفت میں نفرت اور رویے میں شدت پسندی نے سیاست میں عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ اس منفی رجحان کے خاتمے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاسی رہنماؤں سے انکے کارکنان اور عوام بہت کچھ سیکھتے ہیں اس لئے سیاسی رہنماؤں کو جلسے جلوسوں کے دوران تقریر کرتے ہوئے یا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفت میں منفی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے عوام میں اشتعال اور عدم برداشت کی سوچ جنم لے‘ کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو اور غیرشائستہ عمل کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ احمد بلال محبوب نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان افسوسناک ہے،ملکی سیاست عدم برداشت کا شکار ہے۔ سیاسی اختلافات اب ذاتی اختلافات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی تک چلے جانے کی سیاست پہلے کبھی نہ تھی مگر اب آئے روز اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں‘ جب ایک جماعت یا سیاست دان کیچڑ اچھالتا ہے تو دوسرا اُس سے دو قدم آگے بڑھ کر اور زیادہ تلخیاں پیدا کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کی سیاست ذاتیات میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست میں ذاتیات کے بجائے کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے ،قومی مسائل اور ایشوز کا حل قومی جذے کا عملی اظہار ہماری سیاست کا مرکز و محور ہونا چاہیے۔سیاست میں ذاتیات پر نہیں جاناچاہیے،ایک دوسرے کو سیاسی، سماجی اورمذہبی طور پر برداشت کرنا، رواداری کا مظاہرہ کرنا، تحمل و برد باری سے لوگوں کی باتوں کو سننا، اپنی ہی بات کو محض سچ سمجھ لینا اور دوسروں کے سچ کو قبول نہ کرنا، سیاسی، سماجی اور مذہبی فتووں کا کھیل، پر تشدد رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنا، انتہا پسندی پر مبنی سوچ کا پرچار، لوگوں کی ذاتی یا نجی زندگیوں میں مداخلت کرنا اور محض الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی جیسے امور ہمارے سماج میں مضبوط ہو گئے ہیں۔سیاسی جماعتوں کا مجموعی کلچر ہی میں بنیادی سطح کی بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے طرزِعمل میں شائشتگی کا کلچر عام کرنے کے لیے خود سیاسی جماعتوں اور اْن کی قیادتوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست عملی طور پر ایک اخلاقی دائرہ کار کے تحت کی جانی چاہیے، سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے۔