اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت تسلیم نہیں کروں گا، عوام میں نکلوں گا، جدوجہدکے لیے تیار ہوں، قوم اتوار کو عشاء کے بعد احتجاج کے لیے باہرنکلے،قوم فیصلہ کرے آزادرہنا ہے یاغلام ؟ عوام ہی مجھے لے کرآئے، عوام میں ہی مجھے جانا ہے۔ جمعہ کو قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھاکہ پارٹی شروع کی تو 3 اصولوں پر چلا ہوں، خود داری اور انصاف پر بات کرنا چاہتا ہوں۔عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن بہت مایوس ہوں، عدلیہ کی عزت کرتا ہوں، آزاد عدلیہ کی تحریک کے دوران ایک دفعہ جیل گیا، مہذب معاشرے میں عدلیہ سربراہ ہوتی ہے،انصاف کے ادارے اور عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں، کبھی ایسی چیز مغربی جمہوریت میں نہیں دیکھی، قوم کو بھی کہتا ہوں کہ باہر سے سازش ہو رہی ہے، یہ آپ کواپنے بچوں کا مستقبل بچانا ہے، آپ نہیں کھڑے ہوں گے تو کوئی آپ کو نہیں بچائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے جو اسمبلی ملتوی کی اس کی وجہ کیا ہوئی؟ چاہتا تھا کہ عدالت عظمیٰ کم از کم اس مراسلے کو دیکھ تولیتی، عدالت عظمیٰ دیکھتی کہ کیا ہم سچ بول رہے ہیں کہ نہیں؟ جو ہم کہہ رہے ہیں کہ جو رجیم چینج کی سازش ہے دیکھ تو لیتے، 63 اے کھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے بچے بچے کو پتا ہے، عدالیہ سے امید تھی کہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لے گی، جمہوریت کا مذاق بن گیا ہے ،پنجاب میں لوگ بند ہیں، یہ کوئی جمہوریت نہیں ہے، یہ سب سے تکلیف دہ ہے۔دھمکی آمیز خط کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھاکہ یہ مراسلہ سائفر ہوتا ہے، یہ میسج ٹاپ سیکرٹ ہوتا اس لیے میڈیا کو نہیں دیتا، سائفر میسج کو عوام کو نہیں دے سکتا ورنہ دوسرے ملکوں کو کوڈ پتا لگ جائے گا، ہمارے سفیر اور امریکی آفیشل کی ملاقات ہوئی، اس نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے تھا، سفیر نے بہت کوشش کی بتانے کی لیکن اس نے کہا کہ نہیں یہ عمران نے فیصلہ کیا، اگر عمران خان عدم اعتماد سے بچ جاتا ہے پاکستان کو نقصان ہوگا، وہ ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کیا جائے گا، جو بھی آئے گا معاف کر دیں گے یعنی اس کو سب پتا تھا کہ کس نے اچکن سلوائی ہوئی ہے،ہمارے پارٹی کے لوگ جانا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر ان کو عمران خان اور تحریک انصاف کا پتا چلنا شروع ہوجاتا ہے کہ یہ تو بہت خراب ہے، میڈیا کو بھی شرم نہیں آئی اور پیسہ چل رہا ہے، ہمیں آہستہ آہستہ چیزیں پتہ چلنا شروع ہوجاتی ہیں، عاطف خان بتاتا ہے کہ امریکی سفیر نے خاتون رکن اسمبلی کو بلا کر کہا کہ عدم اعتماد آنے والی ہے، یہ پورا پلان بنا ہوا تھا، فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ ہم غلام یا خود دار بننا چاہتے ہیں؟ ان کو پتا تھا کہ شہباز شریف نے شیروانی چلائی ہوئی ہے، شہباز شریف کو آسانی سے اچکن نہیں پہنے دوں گا۔قوم سے خطاب میں انہوں نے کہ ہم 22 کروڑ لوگوں کے لیے کتنی توہین ہے کہ منتخب سربراہ کو امریکا حکم دے رہا ہے کہ آپ کا وزیراعظم بچ جاتا ہے تو مشکلات آئیں گی، اگر ہم نے ایسی ہی زندگی گزارنی ہے تو خود سے سوال پوچھیں کہ ہم آزاد ہوئے کیوں تھے؟وزیراعظم نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے آپ حکومت میں ہو، کہتے ہو قرضے ہیں غلامی کرنا پڑے گی، کہتے ہیں عمران خان کو نکالنا ہے، کیوں نکالنا ہے، میں نے کیا جرم کیا؟ میں نے ڈرون حملے کی مخالفت کی، افغان جنگ کی مخالفت کی، ڈرون حملوں کے خلاف میں نے دھرنے دیے،مظاہرے کیے،امریکا کو پتا تھا عمران خان کے پیسے باہر نہیں ہیں، وہ کنٹرول نہیں ہوگا، عمران خان ہمارا پتلا نہیں بن سکتا ، اس لیے اسے نکالنا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان چاہیے، کسی کی خاطر اپنے لوگ قربان نہیں کرسکتا، کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، پیسے لے کر جب آپ جنگ میں شرکت کرتے ہیں تووہ آپ کی عزت نہیں کرتے، ہمارے صاحب اقتدار ڈالر کے لیے ہمیں جنگ میں پھنسوا دیتے ہیں، پیسے لے کر جب آپ کسی کے ساتھ جاتے ہیں تو وہ آپ کی عزت نہیں کرتے۔عمران خان کے بقول ہم اپنے لوگوں کو غربت سے تب نکالیں گے جب ہم کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کریں، ان کو وہ لوگ پسند ہیں جو کہیں کہ بھکاریوں کے پاس کوئی چوائس نہیں ہوتی، ملک کی خودمختاری آپ کے ہاتھ میں ہے، جمہوریت کی حفاظت فوج نہیں قوم کرتی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ خودمختاری پرحملے کے خلاف نہیں کھڑے ہوںگے تو جواقتدار میں آئے گاوہی کرے گاجو سپر پاورکہے گا، خارجہ پالیسی 22 کروڑ عوام کے مفادکے لیے بنے گی، 80ہزار لوگ مروا دیے، کبھی کوئی کمیشن بیٹھا کہ اس جنگ میں کیوں گئے؟ امریکاکوبتاناچاہتاہوں، ہم امریکا مخالف نہیں ہیں، ہم کوئی ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں ، ہمیں یکطرفہ تعلق کسی ملک سے نہیں چاہیے۔بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یورپی یونین نے جو بیان دیا کیا ان کی جرات ہے کہ بھارت سے متعلق یہ بیان دیں؟ وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن جب عدم اعتماد لے کر آئی تو میں نے اپنی حکومت اور اسمبلی ختم کردی تاکہ عوام منتخب کریں،، یہ سب ایک دوسرے کو چور کہتے تھے، ان کا مقصد عوام کی سیاست نہیں، ان کا پہلا کام نیب اور کرپشن کیسز ختم کرنے ہیں، ان کو ڈر یہ ہے کہ ان کے کیسز آنے لگے ہیں اور قوم نے نظر رکھنی ہے، انہوں نے کبھی نیوٹرل امپائر سے میچ نہیں کھیلا۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو جمہوریت کی فکر ہے تو الیکشن کا اعلان کرے تو دیکھیں عوام کس کو ووٹ دیتے ہیں۔انہوں کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی، عدالت عظمیٰ کے کونسے فیصلے اچھے ثابت ہوئے، یہ سب تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سامنے آجاتا ہے۔