ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہزار کوشش کے باوجود عمران خان سیاسی شہید نہیں بن سکتا، بلاول

اسلام آباد: چیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے اسپیکر کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اس وقت نہ صرف توہین عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی میں بھی ملوث ہور ہے ہیں۔ آپ کا کپتان بھاگ رہا ہے، بھاگتے بھاگتے توہین عدالت اور آئین شکنی کر رہا ہے، عمران خان اکثریت کھو بیٹھے ہیں، تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش کہنا جھوٹ ہے، ہزار کوشش کے باوجود عمران خان سیاسی شہید نہیں بن سکتا، عمران خان شفاف الیکشن سے ڈرتے ہیں اور سیاسی بحران پیدا کرکے ملٹری رول چاہتے ہیں، عمران خان سلیکٹڈ ہیں جو پہلے بھی فیض یاب ہوئے اور اب دوبارہ فیض یاب ہونا چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ عدالت کے 5 رکنی بینچ نے حکم سنایا اور اس کے مطابق اس آرڈر کے علاوہ کسی اور ایجنڈہ آئٹم کو نہیں اٹھا سکتے ہیں، آپ اور اس سے پہلے اسپیکر نے بھی ایسا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 3 اپریل کو ایک وزیر نے صرف وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان اور ڈپٹی اسپیکر کو آئین شکنی میں پھنسا دیا تھا اور آج کی کوشش کی وجہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ اسپیکر اور آپ خود ان جرائم میں ملوث ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی چیئر نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے ڈومین میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے، ایجنڈا اسپیکر، قومی اسمبلی اور حکومت کا ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ توہین عدالت کرتے ہوئے نااہل ہوجائیں گے، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی عدالت نے اسپیکر کی رولنگ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایک اسپیکر صاحبہ اسی کرسی پر بیٹھی تھی، انہوں نے ایک فیصلہ سنایا، از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا گیا، ایک دفعہ پھر حکم آیا ہے، عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے کہ آپ نے آج 3 اپریل کی کارروائی مکمل کرنی ہے اور ووٹنگ کروانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ کا کپتان بھاگ رہا ہے، بھاگتے بھاگتے توہین عدالت اور آئین شکنی کر رہا ہے، اگر آپ خود اس میں ملوث ہونا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بہت پہلے وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ جو صاحب(وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی) مجھے پہلے تقریر کر رہا تھا کہ اس سے بچ کے رہیں ورنہ وہ اس کو پھنسائے گا اور اسی نے اس کو پھنسایا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرو اور ووٹنگ کروائیں، اگر آپ آج کے ایجنڈے پر نہیں آئے تو پوری اپوزیشن بھی یہاں سے نہیں ہٹے گی اور ہم اپنا آئینی حق حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دفترخارجہ کو استعمال کرکے، جعلی کیبل استعمال کرکے آپ کو آئین شکنی اور توہین عدالت پر مجبور کر رہے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اکثریت اس طرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اکثریت کھو بیٹھے ہیں، بیرونی سازش ایجنڈے سے باہر ہے، اس پر بحث ہم 100 دن بھی کرسکتے ہیں، عدالت کا حکم مانیں۔

وزیرخارجہ کی تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کہانی میں جھوٹ ہے، سب سے پہلا جھوٹ ہے کہ 7 مارچ کو یہ بات ہوئی اور 8 مارچ کو ہماری عدم اعتماد یہاں جمع ہوئی، امریکا اور پاکستان میں وقت کا فرق ہے، وہاں 7 مارچ ہے تو یہاں 8 مارچ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بقول اسی وقت جب ملاقات جاری تھی، اسی وقت ہم نے تحریک جمع کروائی، جو بھی عمران خان کو یہ مشورہ دے رہے ہیں، ان کو میں جانتا اور پہچانتا ہوں، وہ خان صاحب کے لیے اپنے لیے سوچ رہے ہیں اور خان صاحب کوپھنسائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے سے ارادہ تھا کہ عمران خان وزیراعظم سلیکٹ نہیں رہتا ہے تو ہمارے اور ان کے درمیان اختلاف نہیں رہے گا لیکن کپتان جس طرح میدان سے بھاگا اور آج بھی موجود نہیں اور اپنا دفاع نہیں کرسکتا ہے۔

بلاول نے کہا کہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا ہے، اپنا موقف نہیں رکھ سکتا ہے، قومی سلامتی کا فورم میں وزیرخارجہ موجود کیوں نہیں تھا، اجلاس کے منٹس نکال کر دیکھیں تو اس میں عدم اعتماد کا ذکر کیوں نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں نہ صرف عدم اعتماد کا ذکر نہیں تھا وہ ایک عام سا فیصلہ لیا گیا کہ ہم نے صرف ڈیمارش کرنا ہے، اگر پاکستان کے خلاف کوئی سازش 7 مارچ یا اس سے پہلے ہورہی تھی تو اسی وقت ان کی غیرت جاگنی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اسی وقت ان کی محب وطن ہونے کا ثبوت سامنے آنا تھا، اسی وقت اپنے اتحادیوں کو کہتے، ہمیں نہ چھوڑیں اور سازش کا حصہ نہ بنیں، ہمیں کہتے عدم اعتماد نہ لائیں اور سازش کا حصہ نہ بنیں لیکن اس وقت خیال آیا جب اکثریت کھو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی پی ٹی اور پی پی پی یا پی ڈی ایم کی نہیں ہے بلکہ جمہوریت کے چاہنے والے اور غیر جمہوری لوگوں کے درمیان ہے، یہ لڑائی وہ ذمہ دار شخصیات جو غیرجانب دار رہنا چاہتے ہیں، جو غیر سیاسی اور نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں ان کے اور ان کے درمیان ہے جو جانب دار رہنا چاہتے ہیں اور مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اصل سازش یہ ہے کہ خان صاحب صاف اور شفاف الیکشن سے ڈرتا ہے، عمران خان کو معلوم ہے کہ صاف و شفاف الیکشن ہوئے توجیسے ضمنی انتخابات میں ان کو شکست ہوئی تھی اسی طرح شفاف الیکشن میں بھی شکست ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سازش ہے کہ عدم اعتماد پر ووٹ نہیں ہونے دیں گے، اسپیکر یا چیئرمین کو قربانی کا بکرا بنانا ہے تو بننے دیتےہیں لیکن ایک اور دو دن مزید کرسی سے چمٹ کر بیٹھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی سازش ہے کہ یاسلیکشن دہرایا جائے، یا انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوں، یا ہم اتنا بحران اور تماشا پیدا کریں کہ آمریت سامنے آئے ، فوجی حکومت ہو اور جمہوریت کا خاتمہ ہو۔بلاول نے کہا کہ جمہوریت کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات ہوتے ہوئے عمران خان کی سیاست نہیں بچتی، وہ 100 کوششیں کریں بھٹو نہیں بن سکتا، ہزار کوششیں کریں سیاسی شہید نہیں بن سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ حقائق یہ ہے کہ یہ پہلے بھی سلیکٹڈ تھے، پہلے بھی فیض یاب ہوئے اور پھر سلیکٹ اور فیض یاب ہو کر آنا چاہتے ہیں مگر ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ان کو یہ تجویز دےرہے ہیں وہ عمران خان کو اس کرسی میں بٹھانے کی کوشش نہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو جو بھی غیرآئینی تجویز دی جارہی ہے وہ عمران خان کو پھر سے لانے کے لیے نہیں بلکہ جہوریت کو لپیٹنے سازش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سازش اسلامی، وفاقی جمہوری آئین کے خاتمے کی ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ سلیکٹ ہوا تو کیوں ہوا، یہ سلیکٹ ہوا تو 18 ویں ترمیم کے خاتمے، صوبےکے ڈاکے مارنے کے لیےسلیکٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کو سلیکٹ ہوا تو آج اتنا بڑا معاشی بحران پیدا ہوا کہ رمضان کے مہینے میں عام آدمی اپنے گھروالوں کو نہ سحری اور نہ ہی افطاری دے سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہر پاکستانی عذاب میں ہے، عمران خان کی سازش ہے کہ عوام کے جیب میں ڈاکا مارو اور بے وقوف بنانے کی کوشش کرو، آمریت آتی ہے تو آئے کپتان اپنی ضد پر اڑا ہے، اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں