
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری آئین شکن حکومت کو فارغ کرنے کے بعد پہلی بار 22 اپریل کو کراچی آرہے ہیں، اس روز ائیرپورٹ کے ٹرمنل 1 پرکراچی کے عوام ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ہم کراچی کے عوام کو جوابدہ ہیں کسی شاہ محمود قریشی یا دیگر کو نہیں۔ 14 قومی اور 21 سندھ اسمبلی کی کراچی سے نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی کے جلسہ میں 30 ہزار سے زائد لوگ موجود نہیں تھے۔ عمران نیازی کی سلیکٹیڈ حکومت نے 3 سال 7 ماہ کے دوران کراچی میں کوئی بڑا منصوبہ تک شروع نہیں کیا اور ماضی کی حکومتوں کے منصوبوں پر تختیاں لگانے والے نیازی نے کراچی میں کوئی ایسا منصوبہ بھی مکمل نہیں کیا ہے۔ عمران کے ٹولے کی کرپشن سامنے آئے گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ تحفے کے طور ملنے والی چیزیں توشہ خانہ سے خریدنے کا قانون ہے، ایسا نہیں کے سستے میں خریدیں اور مہنگے داموں باہر بیچ دیں۔ وقت نے ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید کی ان باتوں کو درست ثابت کردیا ہے کہ عمران نیازی اس ملک کے اداروں اور آئین کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔آئین شکن سے بڑا کوئی ملک دشمن نہیں ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اپنے کیمپ آفس میں پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران خان کی آئین شکن حکومت کر گرانے میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلیکٹیڈ حکومت کے آتے ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ہم اس کو جمہوری طور پر فارغ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزز پارٹی نے پی ڈی ایم بنائی اور اس میں عدم اعتماد کی تحریک کا پلان بھی پیپلز پارٹی نے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری نے ایک آئینی اور جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ کے ذریعے اس نااہل اور نالائق وزیر اعظم کو ان کے گھر بھیجا ۔ 22 اپریل بروز جمعہ کو رات 9 بجے، جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ ٹرمنل 1 پر کراچی کے عوام ان کی کراچی آمد پر تاریخی استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے نکلنے کے دوران عمران خان نے آئین شکنی کی، انہوں نے نہ صرف قومی اسمبلی میں بلکہ پنجاب اسمبلی میں بھی حد پار کر دی۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران خان نے کل جلسہ کیا کراچی میں یہاں سے انکی 14 قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں اور1 2 صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہیںلیکن ان کے جلسے میں تیس ہزار سے زائد لوگ نہیں تھے اور یہ کوئی خاص کامیاب جلسہ نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اسی عمران نیازی نے جو اب کراچی والوں سے بھیک مانگ رہا ہے اس نے اپنی ساڑھے تین سال سے زائد کہ حکومت میں کراچی کو کوئی ایک بڑا منصوبہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگوں کو گیس بحران کاسامنا کرنا پڑا، ملک میں مہنگائی، بے روزگاری انتہا کو پہنچائی، فارن فنڈنگ کیس تو سات سال سے انکے خلاف چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے خلاف کیسز بنیں گے اور وہ ان کو انتقامی کارروائیوں کا نام لے کر بچنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران نیازی کے خلاف کیس بنیں تو انتقامی کارروائی اور جو کچھ اس نے ساڑھے تین سال تک نیب نیازی گٹھ جوڑ کے تحت تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت کیسز بنائے تو وہ کچھ نہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جسکو یہودیوں اور بھارت نے فنڈ کیا جبکہ قانون کے مطابق کوئی جماعت بیرونی فنڈنگ نہیں لے سکتی۔ سعید غنی نے کہا کہ2018 کے متنازعہ انتخابات میں 28 فیصد ووٹ لینے والی جماعت آج ان 70 فیصد عوامی ووٹ لینے والی وہ جماعتیں جو آج اقتدار میں ہیں ان کو غداری کا سرٹیفکیٹ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج میڈیا، عدلیہ، پاک فوج،تمام جماعتیں اور ملک کی 70 فیصد عوام غلط اور صرف عمران خان ہی اپنے آپ کو درست قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر اسرار اور حکیم سعید نے کہا تھا کہ اس ملک، اس کے نظام، آئین اور اداروں کے لئے اگر سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ عمران خان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جلسوں میں راتوں کو عدالتوں کے کھلے ہونے اور یہ کہنا کہ میں نے ایسا کیا جرم کیا ہے تو عمران نیازی تم نے جرم ہی نہیں بلکہ آئین بھی توڑا ہے اور تم آئین شکن ہو اور آئین شکن کو غدار کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی صدر عارف علوی،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر تمام آئین شکن ثابت ہوچکیں ہیں اور ان کو اس کی سزائیں ملنی چاہیے۔ اس موقع پر وقار مہدی نے کہا کہ آج عمران خان کو مقافات عمل کا سامنا ہے۔ اس نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں بالخصوص پیپلز پارٹی اور دیگر اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کیا وہ اب اس کو لازمی بھگتنا ہوگا۔

