سرینگر: بھارت کے غیر قانونی جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر مذہبی و سیاسی تنظیموں نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع اور شب برات کے بابرکت مواقع پر نمازکی ادائیگی اور عبادات کی اجازت نہ دینے پر نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اس کارروائی کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میںکھلی مداخلت اور مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں مذہبی اور سماجی تنظیموں کے اتحاد ”متحدہ مجلس علمائ“ نے سرینگر میں ایک بیان میں بھارتی انتظامیہ کی طرف سے جامع مسجد سری نگر اور دیگر مذہبی مقامات کو نماز کےلئے بار بار بند کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیا ن میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد لاکھوں کشمیریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے ترجمان محمد یوسف تاری گامی نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کیا۔دریں اثنا سرینگر، بڈگام، بارہمولہ، پٹن اور مقبوضہ علاقے کے دیگر مقامات میں لوگوں نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ” جمعتہ الوداع“ کو یوم کشمیر اور یوم قدس کے طور پر منانے کےلئے بھارت اور اسرائیل مخالف ریلیاں نکالیں۔ . ریلیوں کے شرکاءنے بھارت اور اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔
بھارتی پولیس نے حریت رہنما مولوی سجاد کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے نادی ہل میں گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ان پر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں سب جیل بارہمولہ میں نظر بند کر دیا۔قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما رہنما مشتاق الاسلام اور صحافی آصف سلطان سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند 40 سے زائد کشمیریوں کو آج بھارتی ریاست اتر پردیش کی امبیدکر نگر جیل میں منتقل کر دیا۔ادھر بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہندوتوا کارکنوں کے ایک گروپ نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ انہوںنے تین مساجد اور ایک درگاہ کے باہر سور کا گوشت بھی پھینک دیا۔
انسانی حقوق کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے Eamon Gilmoreنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے بھارتی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں دیگر امور کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔مختلف ہندو تنظیموں اور مذہبی رہنماوں نے ایک بیان کی تائید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ” ہم اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں“۔ امریکہ میں قائم ہندوز فار ہیومن رائٹس اور کئی دیگر ہندو تنظیموں اور رہنماوں کے دستخط شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ہندووں کو چاہیے کہ وہ اجتماعی خاموشی توڑ کر ہندوتوا کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت اور تشدد کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔