نئی دہلی،بنارس(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست یوپی کے شہر ایودھیا میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے جمعتہ الوداع کے موقع پر 7 مختلف مساجد، عید گاہوں اور درگاہوں کے باہر مقدس اوراق، گوشت اور قابل اعتراض اشیاء پھینکی گئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم ہندو فسادات کو ہوا دینے کی غرض سے شرپسندوں نے مساجد میں مقدس اوراق، عید گاہ میں گائے کا گوشت اور خون جب کہ ایک درگاہ میں کچرا پھینکا گیا۔یوپی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعتہ الوداع کے موقع پر عید گاہ میں بڑی تعداد میں نمازی عبادت کرتے ہیں اس لیے میدان کو گندہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ مسلم جذبات کو بھڑکا کر فسادات کرائے جا سکیں۔یوپی پولیس کا دعویٰ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 7 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم مہیش کمار مشرا بھی شامل ہے جب کہ 4 ملزمان کی تلاش اب بھی جاری ہے۔مرکزی ملزم نے پولیس کو دیے گئے اعترافی بیان میں کہا کہ جہانگیرپوری میں ہندو جلوس پر حملے کے جواب میں انتقاماً یہ سب کیا۔دوسری پولیس نے جہانگیرپوری میں فسادات میں ملوث ایک ملزم کو مغربی بنگال سے گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت 31 سالہ فرید کے نام سے ہوئی ہے۔یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل ہنومان ایک تہوار کے موقع پر نکلنے والے جلوس کے شرکاء اور جہانگیرپوری کے مسلم دکانداروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔علاوہ ازیں بھارت میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی افطار پارٹی میں شرکت کے خلاف انتہا پسند ہندوئوں نے شدید احتجاج کیا اور ٹائر جلائے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس پرنسپل لڑکیوں کے ایک کالج میں افطار پارٹی میں مدعو تھے جہاں انھوں نے جذبہ خیرسگالی اور مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم طالبات کے ساتھ افطاری کی۔وائس چانسلر کی افطاری میں شرکت کی ویڈیو وائرل ہونے پر انتہا پسند ہندو جماعت کی طلبا تنظیم نے وائس چانسلر کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان کا پتلا بھی جلایا۔ طلبا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے وائس چانسلر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ افطار پارٹی کا انتظام کرنا یا کسی افطار میں مسلم طلبا کے ساتھ شرکت کرنا جامعہ کی پالیسی اور روایت کے عین مطابق ہے جس پر انتہا پسند طلبا بھڑک اْٹھے اور یونیورسٹی کے سامنے توڑ پھوڑ کی۔