ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سری لنکن صدر اختیارات محدود کرنے پر تیار ، نیا وزیر اعظم مقرر

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے ملک کے معاشی بحران پر استعفادینے کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے زیادہ تر انتظامی اختیارات ترک کردیں گے۔ ایک ماہ سے جاری احتجاجی مہم کے بعد پہلی بار قوم سے خطاب میں گوٹابایا راجاپاکسے نے 2019 ء کے انتخابات کے فوراً بعد اپنی جمہوری اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں پارلیمان کو مزید اختیارات دینے اور آئین میں ترمیم کے اہم نکات کو فعال کرنے کے لیے کام کروں گا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ نیشنل پارٹی کے 73سالہ سربراہ رانیل وکرما سنگھے نے شدید معاشی بحران کا شکار ہونے والے سری لنکا کا وزیراعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کی جان کو لاحق خطرات کے باعث بحیریہ کے اڈے پر منتقل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب ملک گیر کرفیو کے باوجود شہر وں میں حملے اور مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین املاک اور گاڑیوں پر آتش گیر مادے سے حملے کر رہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن مظاہرے پھر بھی جاری ہیں، اور پْرتشدد مظاہروں میں 9 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر سری لنکا کے شہری صدر کے خطاب سے بالکل متاثر نہیں ہوئے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صدر کا استعفا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں