معروف صحافی احمد قریشی نے کہا ہے کہ عمران خان نے بطور پاکستانی وزیراعظم اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی تیاریاں کر رکھی تھیں۔
یہ بڑا انکشاف انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے ٹویٹس کے ردعمل میں انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے ذاتی اور خاندانی رابطوں کو راستے کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم ان کا ٹریک اس وقت بدلا جب ان کی حکومت خراب حکمرانی کی وجہ سے غیر مستحکم ہو گئی۔
As Prime Minister, @ImranKhanPTI was ready to establish diplomatic ties with #Israel, used personal and family contacts as conduit. Changed track only when his government became unstable due to bad governance. We might see new information emerge regarding this.
— Ahmed Quraishi (@_AhmedQuraishi) May 15, 2022
خیال رہے کہ شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ حساس نوعیت کے ادارے کیساتھ قریبی تعلق رکھنے والے احمد قریشی کا دورہ اسرائیل چونکا دینے والا ہے۔ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے وہ اسرائیل نواز ایجنڈے کو آگے بڑھا تے ہوئے عمران خان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکی حکومت کی تبدیلی کے سازشی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
Dr. Shireen Mazari, today’s self-appointed top #PTI anti-#Israel crusader, was DG ISSI in 2005 when her boss, then FM Kasuri, held first official #Pakistan–#Israel meeting in #Turkey, after which Israel waived import license requirement for 🇵🇰; saved her job by not objecting. /1 https://t.co/7CwScv60l7 pic.twitter.com/5yKUgaeHwZ
— Ahmed Quraishi (@_AhmedQuraishi) May 15, 2022
اس کا جواب دیتے ہوئے احمد قریشی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری جو آج پی ٹی آئی کی خود ساختہ اسرائیل مخالف بنی بیٹھی ہیں، 2005ء میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی سربراہ تھیں جب ان کے باس سابق وزیر خارجہ کورشید محمود قصوری نے ترکی میں پہلی پاکستان اسرائیل میٹنگ کی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے درآمدی لائسنس ختم کر دیا تھا۔
یہ وہ صحافی ہیں جو اسرائیل امن مشن پرایک امریکی نژادپاکستانی تنظیم کےساتھ coverageکےلئیے گئےتھے۔شیرین مزاری عناد کےباعث ہاتھ دھوکراس صحافی کےپیچھےپڑگئی ہیں۔جبکہ عمران خان کےتو اسرائیلیوں سےدیرینہ مراسم ہیں۔جب انکی حکومت جانےلگی تب مذہب کارڈ استعمال کرنےلگے۔@_AhmedQuraishi https://t.co/E9xk7h02l7
— Samina Qasim. (@qas58) May 16, 2022
اس ٹویٹ کے ردعمل میں شیریں مزاری نے لکھا کہ احمد قریشی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خورشید محمود قصوری نے آپ کی طرح اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا۔ دوسرا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ وہ جب ترکی میں اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملے تھے تو میں اس وقت خاموش رہی تھی۔ اس معاملے پر میں نے دی نیوز میں ایک مضمون بھی لکھا تھا۔
Thank you, Dr. Mazari, for your clarification. But not enough. You served for three years under a Government that established first Pakistan-Israel diplomatic contact. I have no problem with this but it’s called hypocrisy by the standards you have set. /4https://t.co/bcnOLrPsMz
— Ahmed Quraishi (@_AhmedQuraishi) May 16, 2022
احمد قریشی نے اس پر لکھا کہ خورشید محمود قصوری پاکستان کے وزیر خارجہ رہے، میں اس عہدے پر نہیں ہوں۔ آپ اس حکومت کا حصہ رہیں جس نے 2005ء میں پہلا پاک اسرائیل سفارتی رابطہ کیا تھا۔
Dr Mazari directly threatens #Pakistan military based on her own manufactured+false story that my trip as a journalist to #Israel is linked to Govt+Mil (absolutely no link; not even prior knowledge). Plz offer evidence of this involvement or apologize. /2https://t.co/JNhns1EjFt
— Ahmed Quraishi (@_AhmedQuraishi) May 16, 2022
ثمینہ قاسم نے اس موقع پر اپنی ٹویٹ میں احمد قریشی کی حمایت میں لکھا کہ یہ وہ صحافی ہیں جو اسرائیل امن مشن پر ایک امریکی نژاد پاکستانی تنظیم کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تھے۔ شیریں مزاری عناد کے باعث ہاتھ دھو کر اس صحافی کے پیچھے پڑ گئی ہیں جبکہ عمران خان کے تو اسرائیلیوں سے دیرینہ مراسم ہیں۔ جب ان کی حکومت جانے لگی تب مذہب کارڈ استعمال کرنے لگے۔