ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومت فارغ ہونے والی ہے، سرزرد غلطیاں فوری درست کرنے کا فیصلہ ہوچکا: کامران خان کا دعویٰ

سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ میری اطلاعات کے مطابق مارچ اپریل میں سرزرد غلطیاں فوری درست کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ زرداری شہباز شریف حکومت کا "کام اتر گیا”ہے یعنی حکومت فارغ ہونے والی ہے باخبرصحافی ن لیگی پی پی پی لیڈرشپ کی خوب خبر رکھنے والے سینئیر صحافی تو اپنی ٹوئٹس میں باآواز بلند یہ خبر دے رہے ہیں میری اطلاعات کے مطابق مارچ اپریل میں سرزرد غلطیاں فوری درست کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غلطیاں ہوئیں لیکن اب درست ہو رہی ہیں۔ ایوان اقتدار سے رونے پیٹنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ آج سپریم کورٹ نے زرداری شہباز حکومت اولین ترجیح کلیدی حدف یعنی منی لانڈرنگ، سرکاری ٹھیکے، کرپشن، جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز تہس نہس کرنے کا مشن ناکام بنا دیا۔ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کا مستقبل پہلے ہی تاریک کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کلیدی شخصیات تحریک عدم اعتماد، سیاسی معمار سرپرست سیکڑوں ارب رپوں کے منی لانڈرنگ کرپشن جعلی بینک اکاؤنٹس ٹی ٹی اسکینڈلز کیسز میں سر تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر آج سپریم کورٹ از خود نوٹس کے ذریعے ان کیسز کو ٹھکانے لگانے کی سازش قلع قمع کرنے کا عزم نہ کرتی تو عوامی انقلاب آتا۔

اپنی ایک اور ٹویٹ میں کامران خان نے لکھا کہ بھائی اگر فیصلوں کی ہمت نہیں تھی یا سمجھ نہیں تھی یا 12 ہم جولوئیوں میں یکسوئی نہیں تھی تو اقتدار ہڑپ کرنا ضروری تھا۔ 5 ہفتے اقتدار میں ملکی معشیت کا بیڑا غرق ہو گیا۔ آپ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہو رہا کہ نواز شریف پاکستان لوٹ آئیں یا لندن میں ہی رہیں۔ خدارا الیکشن کروا دیں، عوام سے فیصلہ لے لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان سیاسی قوت کااندازہ لگائیں ان کے خلاف 12 سیاسی جماعتیں بشمول PPP PMLN JUI متحد ہیں پھر بھی فوری الیکشن میں خان کا مقابلہ کرنے سے خوفزدہ اقتدار برقرار رکھنے لانگ مارچ مقابلے کے لئے فوجی مدد درکار ہے فوجی قیادت پہلے ہی سیاسی معملات پر miscalculations کی قیمت بھگت رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں