اسلام آباد( آن لائن+صباح نیوز+آئی این پی )وفاقی حکومت نے80سے زائد غیر ضروری اور پرتعیش اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عاید کر دی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔یہ فیصلہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی تشویشناک معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے سخت فیصلے کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری اورلگژری اشیاء کی درآمد پر قیمتی زرمبادلہ خرچ نہیں ہونے دیں گے۔ ذرائع کے مطابق غیر ضروری آئٹمز کی درآمدپر پابندی سے روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں ہوگی۔ وزیراعظم نے امپورٹ ایکسپورٹ بل میں فرق کی وجہ سے پابندی عاید کی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ درآمد پر عاید پابندی والی اشیاء میںلگژری گاڑیوں سمیت دیگر اشیاء بھی شامل ہیں ۔واضح رہے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی ہوچکی ہے جو اس وقت 22 ماہ کی کم ترین سطح پر ہیں اور صرف ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جب کہ ڈالر 200 روپے سے بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضے کا معاہدہ بھی تاحال نہیں ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بھی سری لنکا جیسی صورتحال کے سامنا کا خدشہ ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کو یورپین کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ٹیلی فون کیا اوردوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا ۔شہبازشریفنے افغانستان میں انسانی اور معاشی بحرانوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔ وزیراعظم نے روس اور یوکرین کے جاری تنازعہ کے ترقی پذیر ممالک پر تشویش کا اظہار کیا او رکہاکہ عالمی برادری متعلقہ کثیر الجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مسئلے کے سفارتی حل کی تلاش کیلئے کوشش جاری رکھے ۔شہبازشریف نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے یورپی یونین کونسل کے صدر کو جلد از جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔