ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیٹو کی دوسری بڑی فوجی طاقت کے تحفظات دور کیے بغیر ممالک کی رکنیت ناقابل قبول

صدارتی  محکمہ مواصلات کے ڈائریکٹر فخرالدین آلتون نے اس بات پر زور دیا  ہےکہ نیٹو میں سویڈن کی شمولیت اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک کہ ترکی کے جائز تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا ۔ "اگر آپ نیٹو کی دوسری بڑی فوج (ترکی) سے حملے کی صورت میں آپ کا دفاع کرنے کی توقع رکھتے ہیں، تو آپ کو یہ قبول کرنا ہوگا۔ "

سویڈن کے اخبار Expressen  کے لیے تحریر کردہ  مکالمے میں  جناب آلتون نے سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کے حوالے سے اپنے جائزے پیش کیے ہیں۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہر بین الاقوامی تنظیم کی رکنیت کے لیے کم از کم شرائط اور معیارات ہوتے ہیں، التون نے کہا کہ یہ تنظیم اور اس کے موجودہ اراکین کی جائز توقع ہے کہ اجتماعی سلامتی تنظیم کے طور پر تشکیل دی گئی  تنظیم   میں شمولیت کے خواہاں   ممالک کو،  تنظیم کے ہر رکن کی سلامتی کے خدشات کے سامنے حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ امیدوار ممالک خاصکر انسداد دہشت گردی کے معاملے میں موجودہ  ارکان کے ساتھ   رابطے کا قیام نا گزیر عمل ہے۔

"حقیقت یہ ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے ارکان سویڈن میں اپنی بھرتی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پروپیگنڈہ کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، نیٹو کا یہ مستقبل کا رکن ہماری قوم کی نظر میں اتحادی کے طور پر کتنا قابل اعتماد ہے۔”

التون نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ PKK کے ارکان نے حال ہی میں سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اپنے نام نہاد بینرز آویزاں کیے ہیں اور پروپیگنڈا کیا ہے اس عدم تحفظ کو مزید گہرا کرتا ہے اور اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کیے بغیر نیٹو کا حصہ بننے کی سویڈن کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف ترکی بلکہ دوسرے ممالک بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

جناب  التون نے اپنے مضمون میں مزید  وضاحت کی ہے کہ "سویڈن کی نیٹو میں شمولیت اس وقت تک ممکن نہیں ہو گی جب تک ترکی کے ان جائز خدشات کو دور نہیں کیا جاتا۔ "اگر آپ نیٹو کی دوسری بڑی فوج سے حملے کی صورت میں آپ کا دفاع کرنے کی توقع رکھتے ہیں، تو آپ کو اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔”

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں