ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ڈالر کی ہولناک اڑان،200 روپے کا ہوگیا

کراچی/اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر+نمائندہ جسارت )امریکی کرنسی ڈالر کی ہولناک اڑان جاری ہے ۔پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ڈالرنے ڈبل سنچری مکمل کرلی۔سیاسی و معاشی افق پر غیر یقینی صورتحال، حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ کی بناء پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور آئی ایم ایف پروگرام کی عدم بحالی کے خدشات نے بدھ کوبھی روپے کو بے قدر اور ڈالر کو مضبوط تر کیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے ریٹ 200 روپے ہوگئے۔انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 2.65 روپے کے اضافے سے 198.39 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے مہنگا ہوکر 200.50 روپے تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاملات طے پانے تک روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 22 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے جو صرف ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی ، درآمدی بل میں ریکارڈ اضافے جیسے عوامل کے باعث ڈالر کی طلب و رسد کا توازن بگڑگیا ہے جو اس کی قدر میں تیزی سے اضافے کا باعث بن گیا ہے۔علاوہ ازیں ملک میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 300 روپے بڑھی ہے جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونا 1 لاکھ 38 ہزار 400 روپیکا ہوگیا ہے۔10گرام سونے کا بھاؤ 258 روپے اضافے سے ایک لاکھ 18 ہزار 656 روپے ہوگیا ہے۔ عالمی صرافہ بازار میں ایک اونس سونے کا دام 17ڈالر کم ہوکر 1816 ڈالر ہے۔مزید برآںسندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز3روز کے لیے بند کردیے گئے۔سوئی سدرن گیس کے ترجمان کے مطابق سندھ بھر میں جمعہ سے پیر تک سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے۔ انہوں نے بتایاکہ تمام سی این جی اسٹیشنز 20 مئی صبح 8 بجے سے 23 مئی صبح 8 بجے تک بند رہیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ گیس بندش کا فیصلہ گھریلو صارفین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ترجمان کے مزید کہنا تھاکہ جنرل انڈسٹری اور کیپٹو پاور کو 22 مئی صبح 8 بجے 24 گھنٹے کے لیے گیس نہیں ملے گی۔دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوحا میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔حکومت آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ معاشی صورتحال کو بری طرح متاثرکرنے والے چندعوامل حکومت کے قابو سے باہر ہیں۔ وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کو مذاکرات کے پہلے روز اصلاحات اور اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔جرمن خبررساں ادارے ڈوئچے ویلے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیاسی اور معاشی بحرانوں کے شکار ملک پاکستان کی نئی حکومت آخری سانسیں لیتی معیشت بچانے کے لیے اپنی پیشروحکومتوں کی طرح آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی اقتصادی ٹیم کی کوشش ہے کہ وہعالمی مالیاتی ادارے سے فوری طور پرکم ازکم ایک ارب ڈالر کی پہلے سے طے شدہ قسط حاصل کرلے تاہم ملک میں اقتصادی اصلاحات کی سست رفتار کی وجہ سے حکومتی وفد کے لیے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو قائل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے سربراہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ لگ بھگ 30برس تک وابستہ رہنے والے معیشت دان ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومتیں گزشتہ 75 سال سے آئی ایم ایف کے سہارے ہی ملک چلاتی آرہی ہیں۔ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ایسے ہی ہے، جیسے مریض کو ہنگامی طبی امداد کے لیے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرایا جاتا ہے اور پھر اسے نارمل وارڈ منتقل کرنے کے بعد صحت یابی پرگھر منتقل کر دیا جاتا ہے لیکن پاکستانی معیشت ایک ایسا مریض ہے،جو ہمیشہ ہی ایمرجنسی وارڈ میں رہا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے 2019 ء میں بیمار ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ 6ارب ڈالر کے 3سالہ پروگرام کا معاہدہ کیا تھا تاہم تحریک انصاف کی حکومت عوام کو دی جانے والی تیل اور بجلی کی سرکاری سبسیڈیز کوختم نہیں کر پائی اور نہ ہی محصولات کی وصولی کو اس ہدف تک پہنچا سکی، جس کا آئی ایم ایف سے وعدہ کیا گیا تھا۔اسی صورتحال کے سبب آئی ایم ایف کے اس پروگرام کا اب تک مکمل نفاذ نہیں ہو سکا۔ پاکستان کو اب تک صرف 3ارب ڈالر مل سکے ہیں اور اس معاہدے کا اختتام رواں برس ہونا ہے۔ موجودہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اس معاہدے کو جون 2023ء تک توسیع دلوا سکے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ فریقین کوئی ‘درمیانی راستہ’ ڈھونڈ لیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہو گی وہ آئی ایم ایف کو اس بات پر قائل کر لے کہ ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کچھ رعایات بحال رکھنے کی اجازت مل جائے۔ماہر معاشی امور ڈاکٹر ندیم الحق نے ڈی ڈبلیو کو بتایاکہ حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی زمینی حقائق کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو مد نظر رکھا تو اس بات کا امکان نہیں کہ پاکستانی معیشت کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ حکومتیں مالی خسارے میں کمی نہیں لاسکیں اور نہ ہی قومی معیشت پر بوجھ بنے سرکاری اداروں میں اصلاحات لائی گئی ہیں، بجلی و تیل کی قیمتوں پر سرکاری رعایتوں میں بھی بتدریج کمی نہیں لائی گئی، گندم تک بیرون ملک سے خریدی جا رہی ہے۔ان کا اس بات پر بھی زور دیا کہ کئی ممالک نے آئی ایم ایف سے ہنگامی فنڈز لیے لیکن پھر خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے اسے خدا حافظ کہہ دیا۔ڈاکڑ ندیم کے مطابق بھارت نے 1991ء میں آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنا سونا بیچ کر قرض کی رقم واپس کی اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا، اسی طرح جنوبی کوریا اور ویت نام کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے بعد آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور پھر اسے کبھی نہیں پکارا۔پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر جون 2020 ء کے بعد سے اب تک کی سب سے نچلی سطح 10.3 ارب ڈالر تک آ چکے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں ریکارڈ گراوٹ اور نتیجتاً افراط زر کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح نے عوام کو مہنگائی سے بدحال کر رکھا ہے۔مبصرین کے مطابق ایک ہفتے تک دوحا میں جاری رہنے والے مذاکرات ن لیگ کی اتحادی حکومت کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے، جہاں اسے ایک جانب آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا سامنا ہو گا اور دوسری جانب آئندہ انتخابات سے قبل عوام کو تیل و بجلی پر دی جانے والی رعایتیں ختم نہ کرنے کے چیلنج کا سامنا بھی ہو گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں