ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کی رکنیت ختم

اسلام آباد،لاہور (نمائندگان جسارت،خبر ایجنسیاں)پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کی رکنیت ختم ۔مخالف امیداور کو ووٹ ڈالنے سے ارکان کا پارٹی سے انحراف ثابت ہوگیا ،اس لیے ان کی رکنیت ختم کی جارہی ہے،الیکشن کمیشن ۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے منحرف ہونے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان اسمبلی کو ان کی نشستوں سے برطرف کردیا۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے تین رکن بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جس نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔ڈی سیٹ اراکین میں عظمیٰ کاردار، نذیر چوہان، راجا صغیر، محمد امین ذوالقرنین، عائشہ نواز،علیم خان، سعید اکبر، ملک نعمان لنگڑیال، ملک غلام رسول، اسد علی، اعجاز مسیح، فیصل حیات، اجمل چیمہ، محسن عطا، میاں خالد، مہر اسلم، نذیر احمد خان، فدا حسین، طاہر، سبطین رضا، سلمان ، ذوار حسین، زہرا بتول، ہارون عمران، ساجدہ یوسف شامل ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا جس پر تحریک انصاف نے اپنے ارکان کے خلاف ریفرنس اسپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس جمع کرایا تھا۔ یہ ریفرنس آرٹیکل 63 اے کے تحت جمع کروایا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارکان نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مخالف امیدوار کو ووٹ دیا، مخالف امیدوارکو ووٹ ڈالنے سے انحراف ثابت ہو گیا، منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیریشن کو منظور کیا جاتا ہے، منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم ہو گئی، اب یہ نشستیں خالی ہو گئیں، الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس سے متعلق دو آپشن تھے، ارکان کو 63 اے کی شرائط پوری نہ ہونے پر مسترد کرنا ہی آپشن تھا، دوسرا آپشن تھا ، سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی کہا گیا مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنا سنگین معاملہ ہے۔فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کی رائے ہے کہ ارکان کا مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنا ایک سنگین معاملہ ہے، مخالف امیدوار کو ووٹ دیناپارٹی پالیسی سے دھوکا دہی کی بدترین شکل ہے، الیکشن کمیشن اس نتیجہ پر پہنچا انحراف کے معاملہ کا انحصار شرائط پر پورا اترنے کے معاملے پر نہیں ہو گا۔تحریک انصاف کی جانب سے مذکورہ ریفرنس کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا گیا تھا کہ منحرف اراکین نے پارٹی فیصلے کے برعکس مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کو ووٹ دیا لہٰذا منحرف اراکین آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ، انہیں سزا کے طور پر ڈی سیٹ کر دیا جائے۔دوسری جانب منحرف اراکین کا اپنے دفاع میں کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت نے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں۔علاوہ ازیںالیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کی نئی صورتحال سامنے آگئی ، میڈیا ذرائع کے مطابق چار آزاد ارکان کا ووٹ اہمیت کا حامل ہوگا۔پنجاب اسمبلی کے کل ارکان 371 ہیں، 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد 346کا ایوان رہ گیا ہے، نئی صورتحال کے بعد صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 158ووٹ رہ گئے ہیں،ڈی سیٹ ہونے والوں میں 5 ارکان مخصوص نشستوں پر تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کو یہ پانچ نشستیں فوری نہیں ملیں گی بلکہ 20نشستوں پر ضمنی انتخاب کے بعد ایوان کا تناسب طے ہوگا۔پنجاب اسمبلی میں (ق)لیگ کے 10 ارکان اسمبلی ہیں، مسلم لیگ (ن)کے 165 اور پیپلز پارٹی کے7 ارکان ہیں، پنجاب اسمبلی میں 4 آزاد ارکان اور ایک رکن راہ حق پارٹی کا ہے۔صوبائی اسمبلی میں (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحادیوں کی تعداد 177 بنتی ہے، مسلم لیگ (ن)کے 4 منحرف ارکان اگر اس اتحاد کے ساتھ نہ ہوں تو ووٹ 173 رہ جائیں گے۔نئی صورتحال میں آزاد ارکان کا ووٹ بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے بطوروزیراعلیٰ حلف کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کیلیے منظور کرلیں۔جمعہ کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے حمزہ شہباز کے حلف کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی جس سلسلے میں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ 16اپریل کو عدالتی حکم پر وزیر اعلیٰ کے الیکشن ہوئے ، اس پر جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ یہی خوبصورتی ہے کہ الیکشن ہوتے رہنے چاہییں۔بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ سپریم کورٹ نے تشریح کر دی کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، اس کے بعد حمزہ شہباز کا حلف بھی ہو گیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا سوال یہ ہے کہ قانون کب سے لاگو ہوگا؟دیکھنا یہ ہے کہ کیا جو اقدامات ہو گئے وہ بھی کالعدم ہو سکتے ہیں؟ کیوں نہ درخواست کو سماعت کیلیے منظورکرکے دوسر ے فریق سے جواب لے لیں۔عدالت نے حمزہ شہباز سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مئی کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی دی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں