ایران کے جنوب مغربی شہر ابادان میں منگل کو ایک عمارت کے منہدم ہونے سے22 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکام نے واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں شہر کے میئر کو گرفتار کرلیا ہے۔
میٹر وپول بلدنگ کی زیر تعمیر دس منزلہ عمارت کے سیمنٹ کے بلاک اور اسٹیل کے شہتیر پیر کو ہی کھل گئے تھے، اس حادثے سے زلزلہ زدہ ملک میں تعمیراتی منصوبوں کا بحران کھل کر سامنے آیا ہے۔
عمارت گرنے کی ویڈیو میں عراق سے ملحق ایران کے سرحدی صوبے خوزستان میں تیل پیدا کرنے والے اہم شہر ابادان میں گرد وغبارکا طوفان اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔ میڑوپول بلدنگ میں دو ٹاور شامل تھے جن میں سے ایک پہلے سے تعمیر شدہ تھا جس کی نچلی منزلیں پہلے ہی کرائے پر چڑھئی ہوئی تھیں۔
منگل کو ایک ہنگامی اہلکار نے سرکاری ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ منہدم ہونے والی عمارت میں تقریباٍ پچاس افراد موجود تھے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس عمارت کے تہہ خانے میں تھے۔ حکام کے مطابق کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے ہیں۔