ایرانی صوبے ہوزستان سے منسلک آبا دان شہر میں ایک 10 منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے جواز میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں پولیس سے سخت مداخلت کی۔
سماجی رابطوں کے پیجز پر جگہ دیے جانے والے مناظر کے مطابق کل رات آبادان شہر میں سینکڑوں شہریوں نے 10 منزلہ عمارت کے زمین بوس ہونے کے واقع کے باعث متعلقہ حکام کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کیا۔
ان مناظر میں مظاہرین کے حکومت، ملکی انتظامیہ اور عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکہ داروں کے برخلاف نعرے لگانے اور سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
مظاہرین کے خلاف پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ کی ۔
دوسری جانب آبادان کے ساتھ بیک وقت بو شہر اور دارالحکومت تہران کے بعض علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
تقریباً ایک ہفتے سے جاری رہنے والے مظاہروں میں زخمیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ۔
آبادان میں زیر تعمیر 10 منزلہ میٹروپول بزنس سینٹر 23 مئی کو اچانک زمین بوس ہو گیا تھا۔
آبادان کے گورنر احسان عباس پور نے کل اعلان کیا تھا کہ منہدم ہونے والی عمارت میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ملبے میں تلاش اور بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں۔
اس حادثے کے بعد شروع کی گئی تحقیقات کے دائرہ کار میں علان کیا گیا تھا کہ آبادان کے میئر حسین حامد پور اور سابقہ چار میئرز سمیت 13 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔