ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لیاقت بلوچ کی ہدایت الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن کو مبارکباد

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، مرکزی مجلس قائمہ سیاسی انتخابی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ نے گوادر میں مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں ’’حق دو گوادر کو‘‘ تحریک کی عظیم الشان کامیابی اور’’حقوق کراچی کارواں‘‘کے روح رواں حافظ نعیم الرحمن کوتاریخ ساز کارواں کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر اور کراچی میں عوامی بیداری، ظلم و جبر کے
مقابلے میں استقامت کے ساتھ مسلسل جدوجہد رول ماڈل بنی ہے، یہ پورے ملک میں بیداری اور بابرکت اسلامی انقلاب کا ذریعہ بنے گی۔ کراچی میں بھی ووٹ کی طاقت کراچی کی تاریکیوں اور ظلم کا خاتمہ کرے گی۔لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی اسلام آباد کے2 روزہ ورکرز ٹریننگ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عارضی، کمزور ترین، مختلف الخیال اتحادی حکومت طویل المیعاد اور مستقل فیصلے کرتی جارہی ہے۔ یہ اقدامات اور زیادہ عدم استحکام کا باعث بنیں گے۔ میاں شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت کا اصل کام انتخابی اصلاحات، عمران خان سرکار کے قرآن و سنت اور آئین سے متصادم قانون سازی کا خاتمہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ بدترین شرائط کے سرنڈر سے نجات کے لیے وفاقی شریعت عدالت کے تاریخ ساز فیصلے کی روشنی میں خودانحصاری، قومی وسائل اور بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کے ساتھ نیا اسلامی اقتصادی نظام لانا ہے۔ حکومت ابھی تک اِس جانب پیش رفت نہیں کررہی۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کو سیاسی، صحافتی، حکومتی، ریاستی اور سماجی سطح پر بے دریغ ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔ ذہنی، فکری انتشار، بے اعتمادی، بے یقینی بڑھتی جارہی ہے۔ وہ تمام آڈیوز، وڈیوز جو سیاسی انتقام، سیاسی انتہا پسندی اور جھوٹ پھیلانے کے لیے استعمال ہوئیں اِن کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے۔ حقیقت قوم کے سامنے آئے، قومی قیادت ہوش کے ناخن لے، سیاسی مفادات کے حصول کے لیے جان بوجھ کر اندھی نہ ہوجائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتخابی اصلاحات، سب کا احتساب اور بااعتماد، شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات پر مبنی نیا مینڈیٹ پوری قوم کا مطالبہ ہے۔ اتحادی حکومت یکطرفہ بنیاد پر اقدامات سے نئے تنازعات کو جنم دے رہی ہے۔ قومی ترجیحات، قومی سلامتی پر قومی ڈائیلاگ اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر میاں محمد اسلم، شاہد شمسی، نصر اللہ رندھاوا، زبیر صفدر بھی موجود تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں