یوکیرینی صدر ولا دیمر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کا 20 فیصد روسی قابضوں کے کنٹرول میں ہے۔
ولا دیمر زیلنسکی نے لگسمبرگ کی پارلیمنٹ سے ویڈیو کانفرس کے ذریعے خطاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ روسی فوج نے 24 فروری سےابتک 3 ہزار 620 رہائشی علاقوں پر چڑھائی کی ہے جن میں سے ایک ہزار 17 کو بازیاب کر الیا گیا ہے۔ اسوقت ہماری سر زمین کا 20 فیصد دشمن کے کنٹرول میں ہے جو کہ ملک کا تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ ہے۔
یوکیرین میں 3 لاکھ مربع کلو میٹر کے رقبے کے بارودی سرنگوں اور نہ پھٹنے والے بموں سے لیس ہونے کا ذکر کرنے والے زیلنسکی نے کہا کہ 12 ملین یوکیرینی اپنے ملک کے اندر مہاجر کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ 50 لاکھ سے زائد شہری جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے کو بیرون ملک ہجرت کرنی پڑی ہے۔
یوکیرینی رہنما نے کہا کہ اگر روس اس جنگ میں غالب آیا تو یورپ کے لیے ایک تاریک دور شروع ہو جائے گا۔ اور "اگر ہم یہ جنگ جیت گئے تو یورپی اپنی آزادی سے کو برقرار رکھ سکیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے ابتک 99 دنوں میں ” لاکھوں انسان” موت کے منہ میں گئے ہیں ، اس جنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں پوری دنیا کا تعاون درکار ہے۔