افغان طالبان نے توہین مذہب کے الزام میں ملک کے ایک ممتاز فیشن ماڈل کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس فیشن ماڈل کا نام اجمل حقی بتایا جا رہا ہے۔ اس کیساتھ دیگر 2 ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
طالبان کی جانب سے اجمل حقی اور اس کے ساتھیوں پر قران مجید کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک متنازع ویڈیو میں اجمل حقی کو اپنے ساتھی کیساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں موجود دوسرا شخص قرآنی آیات کی مزاحیہ انداز میں تلاوت کر رہا ہے۔
اجمل حقی اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اسی ویڈیو کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ طالبان نے اجمل حقی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں وہ قیدیوں کے لباس میں کھڑے ہیں اور معافی مانگ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ ہی پوسٹ پیغام میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی اسلام کی توہین کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
Ajmal Haqiqi, model, activist owner of a traditional clothes shop in Kabul has been arrested. Ajmal supported Ghulam Sakhi financially (red shirt), a homeless with mental disorder. 1 week ago, Ghulam Sakhi misread a verse of Quran now his entire companions have been arrested. pic.twitter.com/UPDTTSqeuQ
— Afghan Army🇺🇸🇦🇫🇬🇧🇺🇦 (@AfghanATF555) June 8, 2022
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں شائع خبر کے مطابق ان گرفتاریوں کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ اجمل حقی اور ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کر دیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے آزادی اظہار رائے کے حق پر ایک حملہ کیا ہے۔ تاہم گرفتار ماڈل کے اہلخانہ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
"It’s extremely heart-breaking to see that confession, it is evident that he has been beaten, the language he is using – talking about spreading western values – makes it evident to a lot of Afghans that that is Taliban language” @Zhalsarmast on YouTuber Ajmal Haqiqi’s arrest pic.twitter.com/rD1mTTZJnu
— Yalda Hakim (@BBCYaldaHakim) June 8, 2022