اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ میری بات مانیں ابھی بھی روس جائیں، 30 فیصد ابھی بھی بچت ہو گی،عوام کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں، مہنگائی نیچے آئے گی ، پیسے بچیں گے،ہم نے انکو راستہ بتا دیا ہے، انکو روس جانا چاہیے۔
جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شوکت ترین کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے معاہدے سے پیچھے ہٹے، مجھے آئی ایم ایف نے قیمتیں بڑھانے کا کہا میں نے انکار کیا، میں نے آئی ایم ایف کو کہا میں آپ کو پیسے اکٹھے کر کے دوں گا، قیمتیں بڑھا کر نہیں، ٹیکس بڑھا کر پیسے اکٹھے کروں گا۔
ہم نے آئی ایم ایف کو منا لیا تھا ہم نے انکو پلان بتایا تھا، ہم نے معاہدہ پورا کیا، آئی ایم ایف کو حل بتایا تھا، ویب سائیٹ پر معاہدے موجود ہیں۔ شہباز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے سستا تیل لینا تھا، ہم نے ٹارگٹڈ سبسڈی لینی تھی، ہمارے پاس پلان تھا، ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔
ان کو عوام کے لیے نہیں آئی ایم ایف کے لیے لایا گیا، یہ لوگ آئی ایم ایف کے سامنے لیٹ گئے اور گیس بھی بڑھا دی، آئی ایم ایف کی سب شرائط ماننا ضروری نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کی سب شرائط من و عن مانیں، آئی ایم ایف کی کسی بھی معاہدے میں نہیں لکھا کہ پیٹرول 270 تک جانا چاہیئے۔
انھوں نے کہا کہ آج ہمارے ریزرو ڈیڑھ ارب ڈالر سے نیچے گر گئے،موڈیز نے بھی ان کے آنے کے بعد ہمیں ڈان گریڈ کر دیا، واپڈا کو بھی انہوں نے ڈان گریڈ کیا۔ شوکت ترین نے مہنگائی 25 سے 30 فیصد تک چلے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جب 25 فیصد پر قرضہ ملے گا تو فیکٹریاں بند ہو جائیں گی