ویب ڈیسک —
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تحریکِ انصاف کے ”حقیقی آزادی مارچ ” میں توڑ پھوڑ کے مقدمے میں نامزد رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں ان میں پارٹی کے مرکزی رہنما شفقت محمود اور حماد اظہر بھی شامل ہیں۔ دیگر رہنماؤں میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، اسلم اقبال اور مراد راس سمیت مجموعی طور پر 12 رہنما شامل ہیں۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا تھا۔ اس موقع پر لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
لاہو پولیس نے توڑ پھوڑ کے الزام کے مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی کے مذکورہ رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے عدالت میں درخواست دی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کو شاہدرہ پولیس تھانے کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے پارٹی رہنماؤں کے وارنٹ جاری ہونے پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عدالتوں کو تحریک انصاف کے کارکنان کا ریڈ زون آنا بہت برا لگتا ہے۔ کیا کارکنان کے اوپر وحشیانہ تشدد اور دہشت گردی کے پرچے معمول کی کارروائی ہے؟
یاد رہے کہ تحریکِ انصاف نے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا تھا۔ پشاور سے عمران خان کی قیادت میں قافلہ 26 مارچ کی علی الصباح اسلام آباد پہنچا تو انہوں نے حکومت کو نئے انتخابات کے اعلان کے لیے چھ روز کی ڈیڈ لائن دے کر اچانک مارچ ختم کر دیا تھا۔
بعدازاں عمران خان نے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی قسم کے معاہدے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اگر وہ اسلام آباد میں دھرنا دے دیتے تو خون خرابے کا خدشہ تھا۔ واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کے رہنما مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسمبلیاں تحلیل کر کے جلد نئے انتخابات کرائے جائیں۔