پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عالمی دن (آج) اتوار کو منایا جائے گا۔ جس کا مقصد نوعمر بچوں کو مشقت کی اذیتوں سے نجات دلا کر انہیں اسکولوں کا راستہ دکھانا اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے مدد مہیا کرنا ہے۔
چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جہانیاں سمیت ملک بھر میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبات میں ماہرین چائلڈ لیبر سے پیدا شدہ صورتحال کے متعلق لیکچر دیں گے۔ بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کی بنیاد انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن نے 2002 میں رکھی تھی۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں بچے گھریلو حالات سے مجبور ہو کر مشقت کررہے ہیں۔ چائلڈ لیبر کا شکار ان بچوں اور بچیوں کی عمریں 5 سے 15 برس کے درمیان ہے ان میں بہت سے بچے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے انہیں تعلیم اور مناسب خوارک کی سہولتیں حاصل نہیں ہوتی ہیں۔