پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات پر افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان کابل میں دو دن قبل بھی مذاکراتی نشست مکمل ہوئی ہے۔ مذاکرات میں ایسی توقعات پیدا ہوئی ہیں کہ ہوسکتا ہے اس بار یہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔
مذاکرات کی ناکامی پر ھم کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیان گے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے پاکستانی طالبان کی جانب سے غیر معینہ مدت تک طویل جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے۔ جنگ بندی اعلامیہ آچکا ہے جس کی ہم بھی تائید کرتے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان شرائط فریقین کے آپس کا مسئلہ ہے۔ ہم مصالحت اور امن کے طرف دار ہیں،داخلی امور میں مطالبات اور دوریاں بھی ہوں گی۔ فریقین ایک دوسرے کو نرمی دکھائیں،جنگ بندی زیادہ سے زیادہ طویل حملوں کا سلسلہ رکا رہے۔
امارت اسلامیہ قریبی پڑوسی ملک پاکستان میں امن اور اطمینان چاہتاہے۔ ھم جنگ کے بہت تلخ تجربات دیکھ چکےہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطاُبق ملک اور نسل کو جو نقصان جنگ پہنچاسکتی کچھ اور نہیں پہنچاسکتا۔ جنگ کا دامن سمیٹنا چاہتےہیں۔ جنگ ذدہ علاقوں میں بدامنی واقعات ختم کرنے کے راستے تلاش کررہےہیں۔ :پڑوسی ملک پاکستان میں بہت سے افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان میں تحفظ ہمارے اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔ پاکستان میں بدامنی سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ میں امارت اسلامیہ کا کردار ثالث کا۔ پاکستان میں بھی امن اور مصالحت کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش ہے کیونکہ جنگ سے دنیا کو فائدہ ہوگانہ خطے کو،بدامنی سے دیگر ممالک کو مداخلت کے مواقع میسر آتےہیں۔ اسی لیے ہماری کوشش پاکستان و پاکستانی طالبان کے درمیان مصالحت کی ہے۔ پاکستان اور پاکستانی طالبان کے درمیان کامیاب ثالث کا کردار ادا کرکے مصالحت اور امن قائم چاہتے ہیں۔