پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد کے ایس ایچ او کے آفس میں ایک شخص نے لیڈی ڈاکٹر پر تشدد کیا۔
مریم حسین نامی لیڈی ڈاکٹر پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید قمیض شلوار میں ملبوس ایک شخص خاتون کو مارنا شروع کردیتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ مار پیٹ کے دوران خاتون زمین پر گر جاتی ہے، جس کے بعد وہ بھی مزاحمت کرتی ہے، ایس ایچ او سمیت آفس میں موجود دیگر لوگ بیچ بچاؤ کرواتے ہیں۔
لیڈی ڈاکٹر پر تشدد کرنے والے شخص کو ایس ایچ او تھپڑ مار کر آفس سے باہر بھیج دیتا ہے۔
A lady doctor is being beaten up by three unruly men in @PunjabPolicePaK SHO office in Haroonabad (Bahawalnagar). No one is listening to this civil servant. @rpobahawalpur @CS_Punjab @HamzaSS @Dpobahawalnagar may look into her case. pic.twitter.com/Q7YC6LJM7E
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) June 29, 2022
تشدد کا شکار ہونے والی لیڈی ڈاکٹر مریم حسین کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آگیا ہے، جس میں متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ میرے شوہر کے ساتھ نجی معاملات کی وجہ سے ان کے کہنے پر مجھے 24 جون کو ہارون آباد پولیس اسٹیشن میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں گھریلو تشدد کا شکار تھی، میرے شوہر آئس کا نشہ کرتے تھے، میرے شوہر نے مجھے تھانے آنے کا کہا اور غنڈے بھیج کر مجھے مار پڑوائی، تشدد کے دوران میری ہڈیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں۔
A lady surgeon doctor Marriam Hussain, thrashed by men in office of SHO Haroonabad police station, faces life threat. Listen to her video message pls@OfficialDPRPP pic.twitter.com/0wwW6oeIym
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) June 29, 2022
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ تشدد کے بعد مجھے اب تک انصاف نہیں ملا، میں چار بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں اور میری جان کوخطرہ ہے، میری حکام بالا سے گزرش ہے کہ جلد ان ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
صوبائی وزیر عطا اللہ تاررڈ نے کہا ہے کہ حکومت نے اس افسوسناک واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کو معطل کر دیا ہے کیونکہ واقعہ اس کے دفتر میں ہوا۔ جبکہ ملزم جس نے خاتون پر تشدد کیا وہ ضمانت پر رہا ہے مگر ہم نے اس کی دوبارہ گرفتاری کی درخواست دائر کر دی ہے۔