صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے استنبول میں ترکی، روس، یوکرین اور اقوام متحدہ (یو این) کے درمیان اناج کی ترسیل کے معاہدے کے بعد عالمی برادری سے مثبت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ابراہیم قالن نے CNN انٹرنیشنل پر ایک پروگرام میں ترکی، روس، یوکرین اور اقوام متحدہ کے درمیان دستخط کرنے اور یوکرینی بندرگاہوں سے اناج اور کھانے پینے کی اشیاء کی محفوظ کھیپ” کے بارے میں اپنا جائزہ پیش کیا ۔
تمام فریقین کو معاہدے کی پاسداری کی دعوت دیتے ہوئے ابراہیم قالن نے کہا کہ مذکورہ معاہدے میں کوئی فوجی حملہ نہ کرنے اور یوکرین اور روس سے اناج کی برآمدات کو نہ روکنے کے شقیں شا مل ہیں۔
قالن نے کہا کہ استنبول میں جمعے کو ہونے والا معاہدہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بڑا مفید ہے ۔ ہم اس عمل میں ہر قدم پر بہت محتاط رہیں گے، ہم پورے عمل کی کڑی نگرانی کریں گے۔ ہم روسی اور یوکر ینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اناج کی برآمد کے لیے استنبول میں قائم کیے جانے والے مرکز میں روس اور یوکرین کے ساتھ ساتھ ترکی اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس یہ سیٹ اپ ہونے کے بعد، ہمیں امید ہے کہ پہلا جہاز چند ہفتوں میں اپنے سفر پر روانہ ہو جائے گالیکن یہ روس اور یوکرین کب اپنے جہازوں کی ترسیل شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گے پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جب یہ ٹریفک چلنا شروع ہو جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب نے جنگ کے بعد روس پر پابندیاں عائد کیں، ماسکو انتظامیہ نے اس پر پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کے خلاف قدرتی گیس کو بطور ہتھیار استعمال کیا، اور ا نہیں توقع ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایسا ہوتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم تمام فریقین سے مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں یہاں زیادہ پر امید نہیں ہونا چاہتا، لیکن یہ اناج کا سودا درحقیقت اس قسم کے اعتماد کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو جنگ بندی کی بحالی کا باعث بن سکتا ہے۔ بات چیت، قیدیوں کا تبادلہ اور پھڑ آخر کار امن کا معاہدہ طے پاسکتا ہے۔