ڈیرہ اسماعیل خان سے توقیر زیدی
محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی امت مسلمہ غم میں ڈوب جاتی ہے۔ عزاء خانوں، امام بارگاہوں
اور گھروں پر حسینی فوج کے علمدار ابوالفضل العباس کے سیاہ پرچم بلند کر دئیے جاتے ہیں۔
عزاداری یا تجارت؟ دین فروشوں نے غم حسین علیہ السلام کو دھندا بنالیا
محرم ویسے تو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے لیکن اس ماہ میں خوشی کے بجائے غم کو ترجیح
حاصل ہے۔ یہ ماہ سن 61 ہجری کی یاد دلاتا ہے جب 10 محرم کو نواسہ رسول جگر گوشہ بتول
حضرت امام حسین علیہ سلام اور ان کے رفقاء پر یزیدی فوج نے مصائب کے پہاڑ توڑے۔
یزید لعین کی فوج نے آل رسول کو کربلا کے دشت بیا بان میں گھیر کے شہید کیا۔ سید زادیوں
کے خیمے جلائے، ان کی چادریں لوتیں اور انہیں اسیر بنا لیا گیا۔ امام حسین سمیت تمام شہدا
کے سر کاٹ کے نیزے پر بلند کیے گئے۔ آل رسول سے محبت کرنے والے اسی غم میں سیاہ
پوشاک کو اپنا لباس بنالیتے ہیں۔
اسلامی سال کے اس پہلے مہینے میں نواسہ رسول، اولاد بتول کے غم میں مجالس عزاء، نوحہ خوانی
اور عزاداری کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا کو یاد کرتے ہوئے نواسہ رسول جگر گوشہ بتول کا ذکر
عام کیا جاتا ہے۔
فلک پر محرم کا قمر نظر آتے ہی امام بارگاہوں عزاء خانوں پر سیاہ پھرپرے لہرا دیے جاتے ہیں۔
غم حسین کے آگے ہر خوشی ماند پڑ جاتی ہے کیونکہ یہ چاند طلوع آفتاب شہادت کی خبر لاتا ہے۔
محرم کا چاند جہاں شہادت امام عالی مقام کی خبر لاتا ہے وہیں حسینیت اور یزیدیت کی راہوں
کا تعین بھی کرتا ہے۔
No related posts.