روس کے صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادی میر پوتن، 5 اگست کو سوچی میں متوقع مذاکرات میں، دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون پر غور کریں گے۔
پیسکوف نے دارالحکومت ماسکو میں اخباری نمائندوں کے لئے ایجنڈے کے موضوعات کا جائزہ لیا۔
5 اگست کو متوقع ایردوان۔ پوتن ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا ہے کہ دونوں رہنما اقتصادیات سے لے کر علاقائی مسائل تک متعدد موضوعات پر مشاورت کریں گے۔ یہ ملاقات، شام اور یوکرین کے موضوعات، اناج کی ترسیل کے لئے قائم کئے گئے میکانزم کی کاروائیوں پر معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کے لئے، ایک اچھا موقع ہے۔
پیسکوف نے امریکہ کی اسمبلی اسپیکر نینسی پیلوسی کے ممکنہ دورہ تائیوان پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے نے علاقے میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ پیلوسی کے ممکنہ دورہ تائیوان سے متعلقہ ہر چیز مکمل طور پر تحریکی خصائص کی حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف صورتحال کو اکساوا دے رہا ہے بلکہ کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
پیسکوف نے حالات کے بارے میں روس کے چین کے ساتھ مکمل تعاون کی حالت میں ہونے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "یقیناً ایک دفعہ پھر ہم چین کے ساتھ مکمل تعاون کی حالت میں ہیں۔ ہم اس معاملے میں چین کے حساس روّیے کو سمجھ رہے ہیں۔ چین حق پر ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "امریکہ، چین کی اس حساسیت کا احترام کرنے کی بجائے جارحانہ روّیہ اختیار کئے ہوئے ہے اور یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ ہم اس معاملے میں صرف افسوس کا اظہار کر سکتے ہیں”۔