سان فرانسسكو: ٹوئٹر نے عوام کے دیرینہ اصرار پر ٹوئٹ شدہ پیغامات کو نصف گھنٹے تک ایڈٹ کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔ ٹویٹر نے باضابطہ طور پر یکم ستمبر کو اس کا اعلان کیا ہے تاہم 5 ڈالرماہانہ پر یہ سروس صرف ان صارفین کو دی جائے گی جن کے اکاؤنٹ پر تصدیق کا نیلا نشان موجود ہوگا۔
اسی سال اپریل میں ٹوئٹر نے اس سہولت کا اعلان کیا تھا۔ جمعرات کو ٹویٹرکی کنزیومر سروسز کے جنرل مینیجر جے سلیوان نے اپنی ایک پوسٹ میں اس کی تصدیق کردی ہے۔ 2020 میں اس وقت ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسے نے کہا تھا کہ شاید وہ ایڈٹ کی سہولت کبھی پیش نہیں کریں گے کیونکہ اس سے غلط معلومات پھیل سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ ’ایڈٹ ٹوئٹ‘ کی بدولت دوسرے بھی اسے ایڈٹ کرسکیں گے اور اصل بات کچھ کی کچھ ہوسکتی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود اب ایڈٹ بٹن پیش کردیا گیا ہے جو پوسٹ ہونے کے 30 منٹ بعد بھی قابلِ عمل ہوتا ہے۔ تاہم ہر ٹویٹ کو محدود مرتبہ ہی ایڈٹ کیا جاسکتا ہے۔
یکم ستمبر کو ٹوئٹر نے اس کا لائیو مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ایڈٹ کا آپشن آن ہوتے ہی پنسل اور ایڈٹ ٹویٹ کا بٹن دکھائی دیتا ہے۔ اس سے قبل ٹوئٹر نے اپنے اسٹاف کے لیے یہ آپشن پیش کیا تھا۔ اب یہ بلو نشان والے سبسکرائبر کے لیے پیش کی جارہی ہے۔
تبدیل شدہ ٹوئٹ ایک آئکن، ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ ظاہر ہوگی اور پڑھنے والا اسے اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
منبع: ایکسپریس نیوز
The post ٹوئٹر نے دیرینہ مطالبے پر ایڈٹ کا بٹن متعارف کرادیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.