ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم جوابدہ ہوں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ

 اسلام آ باد: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم جوابدہ ہوں گے۔ ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

شیری مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کلاسک کیس ہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا ، آپ نے اگر تمام ایشوز کو ایڈریس کیا ہوتا تو ٹارچر کے الزامات کا معاملہ سامنے نا آتا۔

انہوں نے کہا کہ علی وزیر کا کیس اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں لیکن وہ دو سال سے زیرحراست ہے، علی وزیر کے حلقے کے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی سے محروم رکھا جا رہا ہے، یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 پی ٹی ایم کے کیس میں بغاوت کا کیس بنا اس وقت ہم نے کہا تھا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں بغاوت کا کیس نہیں بنے گا۔

 چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا کوئی سول چیف ایگزیکٹو کہہ سکتا ہے کہ وہ Helpless (بے یار و مدگار) ہے ، شہباز گل کیس میں بھی ٹارچر کا الزام ہے اس کے علاوہ بھی کیسز پہلے سے تھے آپ کا کام ہے ان کو دیکھیں ، جو طاقت میں ہوتا ہے وہ اسی پولیس کو استعمال کرتا ہے پھر اپوزیشن میں آکر اسی کو برا بھلا کہتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت اس پر یقین نہیں رکھتی کہ کمیٹیاں بناتے رہیں ، جو لاپتہ افراد بچارے واپس آجاتے ہیں وہ پھر بولتے نہیں ، مجھے بھی خطرہ تھا کورٹ کی وجہ سے بچا ہوا ہوں ، امید ہے نو ستمبر سے پہلے لاپتہ افراد بازیاب ہو جائیں گے، دوسری صورت میں وزیراعظم جوابدہ ہوں گے ، عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ وہاں تک پہنچے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں