کراچی:ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت سیاسی و معاشی استحکام کی ضرورت ہے،ملکی بقاء و سلامتی کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں، عمران نیازی اور دیگر سیاسی رہنما فوری طور پر تقاریر و بیانات میں یہ کہنا چھوڑ دیں کہ قوم یا 22 کروڑ عوام ان کے ساتھ ہیں وگر نہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی،قبل از وقت انتخابات ملک میں انتشار۔افراتفری اور معاشی و سیاسی عدم استحکام کا باعث ہوں گے۔
پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنا باہمی کوششوں کا نتیجہ ہے،ملک بھر سے چند ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والے علماء کا ملک میں انارکی پھیلانے والے عمران نیازی سے ملنا اور حمایت کرنا سراسر قرآن و سنت اور نظریہ پاکستان سے انحراف ہے۔
عدلیہ کی بالادستی اور انصاف کا بول بالا ریاست مدینہ کی شناخت تھے’’ٹرانس جینڈر قانون اسلام کے معاشرتی نظام پر حملہ ہے‘‘ مسائل کا حل صرف نفاذ نظام مصطفیٰﷺ میں ہے، توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف کی نا اہلی کے بعد جس طرح روڈ پر توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا وہ قابل قبول نہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب اور وفود ملاقات کرتے ہوئے کیا،وفود میں ماہر تعلیم پروفیسردلاور خان، علامہ مرتضیٰ رحمانی، برکت مسیح،سید صمصام رضوی،جے یو پی رہنما سلیم بخاری، جمیل خان،علامہ خلیل نورانی، عبدا لوحید یونس،قاری محمد ادریس، صوفی مسرور ہاشمی خانی، مفتی حفیظ اللہ ہادیہ،مولانا سلمان بٹلہ ودیگر شامل تھے
جبکہ تقریب میں سیاسی رہنماء اخلاق سونی،پیرخرم شاہ جیلانی،افضل وارثی و دیگر شریک تھے، صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ نانام نہاد ٹرانس جینڈر قانون پاکستان کے معاشرتی نظام اور نظریاتی تشخص کے خلاف ایک خوف ناک سازش ہے مذہبی جماعتوں کو مل کر طاغوت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
ٹرانس جینڈر قانون مغربی اور اسلامی تہذیبوں کی کشمکش کا ایک مظہر ہیاُنہوں نے کہا کہ مغربی نظام کے تحت پروان چڑھنے والی دجالی تہذیب کے عَلم بردار اور نمائندگان اگر اسلام کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں تو دینی جماعتیں اور دینی طبقات اسلام، پاکستان اور ہماری معاشرت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد کیوں نہیں ہو سکتے ہیں۔
حضور نبی اکرم ؐ نے اپنی سیرت مبارکہ کے ذریعے امن،محبت اور انصاف کا درس دیا۔ریاست مدینہ میں عدلیہ بالا دست اور شہری کو فوری انصاف ملتا تھااسلام میں آزادانہ حق رائے دہی،آزادی اظہار اور اختلاف رائے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔میثاق مدینہ میں مذہبی،سیاسی اور انسانی آزادی اور حقوق کو تسلیم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے نادانستہ فیصلوں کی بدولت پاکستان 3 بار گرے لسٹ میں آیا اور معاشی لحاظ سے ملک کو 38 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، ملک میں کوئی بھی شخص آئین و قانون سے ماورا نہیں۔
توشہ خانہ یا قومی خزانے سے ذاتی مفادات حاصل کرنا ریاست مدینہ کے قانون اور نظریہ پاکستان سے انحرافی ہے، کسی بھی حکومتی نمائندہ کا ملنے والے تحائف کو چھپانا اور ان کو فروخت کرنا اخلاقی اقدار کے منافی اقدام بھی ہے،انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کو اپنے دو ر اقتدار میں 13کروڑ 88لاکھ کے تحائف ملے، جنہیں بیچنے کے بعد مرضی سے ادائیگی کی گئی۔ 2019کے بعد سے کوئی تحفہ ظاہر نہ کیا گیا۔ وزراء بھی تحائف لے گئے۔
قوم کی ایک ایک پائی کا حساب کا دعویٰ کرنے والے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں برابر کے شریک نکلے ہیں۔ ملک و قوم اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتے جب تک چوروں، ڈاکوئوں، لٹیروں اور کرپٹ افراد کو اسمبلیوں سے باہر نہیں نکال دیا جاتا۔
۔صاحبزادہ نقشبندی نے مذید کہا کہ عمران نیازی اور دیگر سیاسی رہنماوں کا ایسا کہنا کہ 22 کروڑ عوام یا پوری قوم ان کے ساتھ قوم سے دھوکا اور فراڈ ہے۔کیونکہ پاکستان کی 22 کروڑ عوام کسی بھی ایک جماعت یا لیڈر کے ساتھ کیسے ہو سکتی ہے۔
جبکہ اس وقت وطن عزیز میں کئی جماعتیں اپنے اپنے نظریے اور منشور پر کام کر رہی ہیں تو ایسے میں عوام بھی کسی نہ کسی جماعت کے نظریے منشور سے متفق اور منسلک ہے تو پھر عمران نیازی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کا یہ دعوی ٰکہ 22 کروڑ عوام ان کے ساتھ ہیں پوری قوم کے احساسات اور ان کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
لہذا اب ایسا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور عمران نیازی سمیت دیگر رہنما انتخابات میں حاصل شدہ ووٹوں اور اپنے سپورٹرزکو مخاطب کرکے تقاریر کیا کریں اگر عمران نیازی اور دیگر رہنماؤں نے فوری طور پر یہ وطیرہ نہ بدلا تو پھر ایسی تقاریر و بیانات رکوانے کے لئے 22کروڑ عوام کی امنگوں جذبات ان کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کی جائے گی جس کے لئے قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں ۔