ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکیہ نے 17 افراد اور 4 کمپنیوں کے مالی اثاثے منجمد کر دئیے

ترکیہ نے، دہشت گرد تنظیم کو مالی تعاون کی فراہمی کے معقول سبب کی بنیاد پر، دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ منسلک، بعض حقیقی اور بعض قانونی شخصیات کے ترکیہ میں موجود مالی اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔

ترکیہ وزارت خزانہ کے تیار کردہ "مالی اثاثوں کے انجماد” کا فیصلہ آج سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے بعد سے نافذالعمل ہو گیا ہے۔

فیصلے کی رُو سے، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلقہ قانون کے دائرہ کار میں، "دہشت گردی کی مالی معاونت کے جُرم میں داخل ہونے والے افعال  کےارتکاب سے متعلق معقول وجوہات کی بنیاد پر داعش سے منسلک 17 افراد اور 4 قانونی شخصیات  کے ترکی میں موجود مالی اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ رابطے کی وجہ سے جن 17 افراد کے اثاثے منجمد کئے گئے ہیں ان میں ماہر دغائم، حسن دغائم، بدیہ حاکمی، نجیب بالیک، مصطفیٰ آرژا، رضوان ساکسوک، محمد اعلیٰ ساکسوک، حسن ساکسوک، حسین حسین، خالد ساکسوک، محمد راتب خطاب، ظہیر ساہلول، مجید سکاریہ، یاسر کیبار، احسان مہدی، صالح صالح اور عمید بن صلاح شامل ہیں۔

داعش سے منسلک لیگل انٹٹیوں میں ڈی ایکس این میلانو کمیشن ٹریڈ لمیٹڈ، المراعی امپورٹ ایکسپورٹ انڈسٹری اینڈ ٹریڈ لمیٹڈ، آر ساکسوک گولڈ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپورٹ انڈسٹری اینڈ ٹریڈ لمیٹڈ اور گلوبل لاجسٹک امپورٹ ایکسپورٹ فیسٹیول آرگنائزیشن ٹریڈ لمیٹڈ شامل ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں