2022 کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس کی ارجنٹائن سے شکست کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 227 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
روزنامہ لی فگارو کی فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین کے حوالے سے بیان میں فرانس کے قطر میں ورلڈ کپ میں شکست کے بعد کئی شہروں بالخصوص دارالحکومت پیرس میںلوگ سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے کیے۔
ان مظاہروں کے دوران پولیس نےپیر میں 47 افراد کو اور دیگر شہروں میں کل 227 افراد کو حراست میں لیاہے۔
سیکورٹی فورسز نے پیرس کی مصروف ترین شاہراہ پر دھاوا بولنے والوں اور پولیس پر آتش بازی اور بوتلیں پھینکنے والوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس طرح کے مظاہرے نائس، لیون، بورڈو اور روبیکس سمیت کئی شہروں میں دیکھے گئے ہیں۔
کچھ شہروں کے ، میئرز نے مظاہروں کے دوران دکانوں اورشاہروں کو نقصان پہنچانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔
ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فرانس کی مراکش کو شکست دینے کے بعد ملک کے کئی شہروں میں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے سڑکوں پر مظاہرے کیے تھے۔
پولیس حکام نے فائنل میچ میں نئے تشدد کی لہر سے بچنے کے لیے پیرس میں 2 ہزار 750 جبکہ پورے ملک میں 14 ہزار پولیس اور جنڈرامیری کے اہلکاروں کو تعین کیا تھا۔