اسلام آباد: قومی اسمبلی میں انسداد منشیات ترمیمی بل 2022ء کثرت رائے سے منظور ہوگیا، جس کے مطابق سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدرات اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انسداد نشہ آور مواد کے قانون کی شق 2 کے سیکشن 9 میں ترمیم پیش کی، جس کے ذریعے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ سی این ایس اے کے تحت سزائے موت کو غیر موزوں انداز میں استعمال کیا جاتا ہے ، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔نشہ آور موا د کے مقدمات میں معصوم لوگوں کو سزائے موت دیے جانے کا خطرہ ہے، مذکورہ قانون کے تحت سزائے موت کے من مرضی پر مبنی اطلاق کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب جے یو آئی ف نے انسداد نشہ آور مواد قانون سے سزائے موت ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔ قومی اسمبلی میں بل کی مخالفت میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ مذکورہ ترمیم سے اتفاق نہیں ، اس لیے حمایت نہیں کر سکتی۔اس ترمیم کے پیچھے کوئی اور سوچ کار فرما ہے۔منشیات جیسے گھناؤنے جرم کے ارتکاب پر دی جانے والے سزائے موت کا قانون کتابوں سے ختم کرنے کی سوچ کارفرما ہے اور ایسے گھناونے جرم کی سزا کم کرنا باعث ندامت ہے۔
