ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گجرات کے چوہدری برادران اس وقت کس ’گریٹ گیم‘ میں ہیں؟

چوہدری پرویز الٰہی کی ’منافع بخش‘ سیاست پر بات کرتے ہونے انہوں نے مزید کہا کہ ’چوہدری گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کریں گے۔‘
’انہوں نے مونس الٰہی کے لیے اگلی وزارت اعلٰی مانگ لی ہے اور اس بات کی یہ دلیل دی ہے کہ عمران خان اور مونس الٰہی سیاسی طور پر ایک ہی صفحے پر ہیں تو اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت کی صورت میں پنجاب کی وزارت اعلٰی مونس الٰہی کو ملنی چاہیے۔‘
سلمان غنی کے مطابق ’اس صورت حال نے عمران خان کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ ہر اسمبلی تحلیل نہ کروا سکنے کی صورت میں ان کی سیاست مشکل موڑ پر پہنچ جائے گی۔‘
’دوسری طرف پی ڈی ایم نے اپنے بازو کھول رکھے ہیں۔ عمران کی ذرا سے سیاسی غلطی سے وہ فوری فائدہ اٹھائیں۔‘
چوہدری پرویز الٰہی سے پی ڈی ایم رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتوں سے متعلق سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کے پاس بھی چوہدریوں کو آفر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن وہ پرویز الٰہی سے ڈیل نہیں کرتے، جو بھی بات ہو گی وہ چوہدری شجاعت کی گارنٹی سے ہو گی۔ اس لیے چوہدری شجاعت نے اس بات کی ہامی بھی بھر لی ہے۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ق لیگ کے چوہدریوں کی ساری نظر اس وقت اگلی گریٹ گیم پر ہے کہ اگلے سیاسی سیٹ اپ میں ان کے حصے میں کیا آئے گا اس لیے وہ دونوں طرف اپنے آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ’چوہدریوں نے ساری عمر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کی ہے اور اسٹیبلشمنٹ میں بھی وہ دھڑا جو طاقت میں ہو۔ پرویز الٰہی نے جنرل باجوہ کا ساتھ دے کر ایک دوسرے جنرل کی کلاس بھی لی ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ان کو پتا ہے کہ اسٹیبلمشنٹ کو اس وقت کیا سوٹ کرتا ہے۔‘
سہیل وڑائچ کے خیال میں چوہدری پرویز الٰہی اسمبلیاں توڑنے کی طرف نہیں جائیں گے اور کھینچ تان کر معاملہ مارچ اپریل تک لے جائیں گے۔
‘دونوں طرف اپنی مکمل طور پر نہیں بگاڑیں گے نہ پی ٹی آئی سے نہ ہی پی ڈی ایم سے۔ ان کی نظر اگلی سیاسی گیم پر ہے۔‘

رائے شاہنواز

بشکریہ اردو نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں