اقوام متحدہ میں ترکیہ کے مستقل نمائندے فریدون سینیرلی اولو نے چینی نمائندے کے شام میں دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے خلاف ترکیہ کی جدو جہد کے بارے میں الزامات لگائے ہیں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی تقریر میں، سنیرلی اولو نےچینی مستقل نمائندے کی جانب سے بار بار شام کے شمالی حصے کو ہوائی حملوں اور توپ خانے سے نشانہ بنائے جانے اور زمینی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دیے جانےکا الزام لاگتے ہوئے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرنے پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
سینرلی اولو نے کہا کہ کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ پر ہمیں لیکچر دینے کا حق نہیں ہے۔ ہم اپنی سرحدوں کے دفاع اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے کے بارے میں کسی کو کوئی بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ترکی کا عزم "غیر متزلزل” ہے اور وہ اپنے لوگوں کے تحفظ اور سرحدی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔ سینرلی اولو نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں شمالی شام میں PKK/YPG کے حملوں اے 500 سے زیادہ شامی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "PKK/YPG/SDG شمال مشرق میں لوگوں پر مسلسل دباو ڈالے ہوئے ہے، وہ دراصل علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جدو جہد کے بہانے سے علاقے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔ اور سب سے کچھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہےکیونکہ اس سے شام کی سرزمین کی سلامتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔