پشاور: امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے ساتھ کئے گئے وعدے آج تک پورے نہ ہوسکے،انضمام کے باوجود قبائلی اضلاع کے لئے وفاقی محصولات کا 3 فیصد اور میگا پراجیکٹ نہ دیئے جا سکے، قبائلی اضلاع کو مکمل ٹیکس فری زون بنایا جائے۔
پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ جنرل مشرف کی امریکی پالیسی کا تسلسل ابھی جاری ہے، قبائلی اضلاع کے حقوق کے لئے ہم صوبائی حکومت سے آگے ہوں گے لیکن یہ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے درمیان مفادات کی جنگ ہے۔ پی ٹی آئی کی جب وفاقی حکومت تھی تو صوبائی حکومت نے کچھ نہیں مانگا۔
انہوں نے کہاکہ ( ن) لیگ کی حکومت ہو یا پی ٹی آئی ہم دونوں سے صوبے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں۔
پروفیسر محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مغربی بارڈر ہندوستان کی طرح متنازع نہیں۔ پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے، لکی مروت میں پولیس پر پے در پے حملوں اور بنوں میں سی ٹی دی کمپاؤنڈ نے حالات کی سنگینی واضح کردی ہے۔ سیکورٹی ادارے بتائیں کہ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کس کے ماتحت کام کررہا ہے۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان نے کہاکہ یہ سویلین ادارہ ہے یا فوج کے کنٹرول میں ہے۔ اگر سویلین ادارہ ہے تو تھانہ منڈان سے اس کا دفتر کینٹ میں کیا کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ واقعے پر عوام کے تحفظات دور کئے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کی قومی اسمبلی میں نشستیں 6 سے بڑھا کر 12 اور صوبے میں 16 سے بڑھا کر 24 کی جائیں۔
