برطانیہ میں ہر روز کوئی نہ کوئی سیکٹر ہڑتال پر جا رہا ہے۔
توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور بلند افراطِ زر کی وجہ سے ملک میں ہڑتالوں کی لہریں ملک کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔
ریلوے لائن کے ملازمین اور بس ڈرائیوروں نے ایک دفعہ پھر پہیے جام کر دئیے اور سیکٹر کے تقریباً ایک لاکھ ملازمین نے یکم فروری سے ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے اور اوقاتِ کار کی شرائط میں بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دو بڑے صحت کے اداروں کی 7 ہزار سے زائد نرسوں اور ہیلتھ ورکروں نے بھی گذشتہ روز کام بند کر دیا ہے۔
ہڑتال کے تیسرے دن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
صحت کے عملے کا مطالبہ ہے کہ ہسپتالوں میں عملے کی بھرتیاں کی جائیں اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ۔