صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائیریکٹر فخر الدین آلتون نے صدر رجب طیب ایردوان کے بارے میں دی اکانومسٹ میگزین کے سرورق پر شائع خبر سے متعلق اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں، آلتون نے کہا، انہوں نے دوبارہ صدر ایردوان کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کردیا ہے۔جریدے نے فکری طور غیر حقائق ، بورنگ اور جان بوجھ کر جہالت کی بنیاد پر ترکیہ کی تصویر کشی کی ہے ۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے وہی پرانے گھسے پٹے الفاظ ، غلط معلومات اور متکبرانہ پروپیگنڈے کے ساتھ جمہوریہ ترکیہ میں ڈیموکریسی کے خاتمے کا پراپگنڈہ کیا ہے اور اشتعال انگیز سرخیوں اور اشتعال انگیز تصاویر کے ساتھ ان کی مارکیٹنگ کی تکنیک انہیں اپنے نام نہاد میگزین فروخت کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے لیکن قارئین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہہ یہ سستی شہرت، ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا پر مبنی صحافت ہے۔
آلتون نے کہا کہ ترک عوام نے بارہا جمہوریت، مساوات اور آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل کر ڈیموکریسی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں ڈیمو کریسی کے تحفظ کے لیے ترک عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے 15 جولائی 2016 کو فتح اللہ دہشت گرد تنظیم کی ناکام بغاوت کی کوشش اور کئی دیگر آفات سے ملک کو بچایا ۔
انہوں نے کہا کہ جب صدر اردگان نےترک شہریوں کو ڈیموکریسے کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔
آلتون نے کہا کہ دی اکانومسٹ کے نام نہاد صحافیوں اور ایڈیٹرز نے ڈیموکریسی کے لیے ترکوں کی جدوجہد کے بارے میں صحیح صحافت کرنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے جتنے بھی انتخابات میں حصہ لیا ان میں کامیابی ہی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد صحافیوں کی ڈیموکریسی ہی کے ذریعے منتخب صدر ایردوان سے نہ ختم ہونے والی نفرت ناقابل فہم ہے۔
آلتون نے کہا کہ ملک اس وقت گرما گرم سیاسی بحث و الے انتخابی دور کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں حقیقی ڈیموکریسی موجود ہے ، التون نے کہا، "اپوزیشن کئی ماہ سے اپنی حکمت عملی طے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ترک ڈیموکریسی بڑی متحرک ڈیموکریسی ہے اور ترک باشندے سیاسی نظام پر مکمل طور پر بھروسہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دی اکانومسٹ کے رپورٹرز نے ترکیہ میں کیا کچھ ہو رہا ہے جاننے کی ذرہ بھر بھی زحمت نہیں کی ہے۔ میں اس جریدے کی خبروں سے متعلق شک و شبہات نہ کرنے والے قارئین کو اس جریدے کی افسوسناک حالت کے بارے میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔