ترکیہ نے، سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے حامی گروپوں کو ترکیہ مخالف پروپیگنڈہ مظاہرہ کرنے کی اجازت دئیے جانے کی شدت سے مذمت کی ہے۔
ترکیہ وزارت خارجہ نے سویڈن میں PKK کے حامی گروپوں کی طرف سے کئے گئے مظاہرے کے بارے میں جاری کردہ بیان میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن کریم پر گستاخانہ حملے سے فوراً بعد پروپیگنڈہ مظاہرے کی اجازت دئیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس دفعہ ہم، شہر کے مرکز میں PKK کے حامی گروپوں کو پروپیگنڈہ مظاہرہ کرنے کی اجازت دئیے جانے کی شدت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ مظاہرہ، دہشتگرد تنظیم کے پروپیگنڈے کا سدّباب کرنے پر مبنی اور سویڈن کے دستخطوں کے حامل، سہ فریقی معاہدے کی کھُلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سہ فریقی معاہدے میں درج یقین دہانیوں پر قائم ہونے کا لفظی اظہار ایک الگ چیز ہے اور ان یقین دہانیوں کو عملی جامہ پہنانا ایک الگ چیز۔ ہم ہر موقع پر باور کرواتے چلے آ رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کےمعاملے میں سویڈن حکومت کی طرف سے لفظی بیان بازیوں سے ہٹ کر ٹھوس اور موئثر عملی اقدامات کئے جانے کے منتظر ہیں”۔
واضح رہے کہ ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی پارٹی سٹرام کُرس کے چئیر مین راسموس پیلوڈین نے اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے قرآنِ کریم کو نذرِ آتش کیا اور اس کے بعد دارالحکومت اسٹاک ہوم کے’ نورا بانٹورگٹ’ اسکوائر میں PKK/YPG کے حامیوں نے سویڈن کے، نیٹو رکنیت مرحلے کے دوران، ترکیہ کے ساتھ طے کردہ سمجھوتے کی منسوخی کے مطالبے کے ساتھ مظاہرہ کیا۔
ترکیہ نے 28 جون کو اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں فن لینڈ اور سویڈن کی رکنیت درخواستوں کو ویٹو کر دیا تھا۔ بعد ازاں انقرہ نے دہشت گرد تنظیموں کے کھُلے حامی دونوں ملکوں کے ساتھ ایک پروٹوکول پر دستخط کئے اور اب اس پروٹوکول میں کئے گئے وعدوں کو پورا کئے جانے کا منتظر ہے۔