ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیو یارک: فیس بک پر کار بیچنے والا ڈاکو نکلا، پاکستانی نژاد پولیس آفیسرشدید زخمی

نیویارک کا ایک پولیس اہل کارایک گاڑی کی فروخت کا اشتہار دیکھ کر اسے خریدنے کے لیے گیا تو گاڑی بیچنے والا ڈاکو نکلا۔ اس نے رقم چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت پر پولیس افسر کو گولی مار کر شدید زخمی کرنے کے بعد فرار ہو گیا۔

انٹرنیٹ پر پرانا سامان بیچنا اور خریدنا ایک عام سی بات بن چکی ہے، کریگ لسٹ، آفر اپ، مرکاری، فیس بک مارکیٹ پلیس جیسے کئی پلیٹ فارمز خریدار اور بیچنے والے کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں، مگر اکثر جرائم پیشہ افراد بھی ان پلیٹ فارمز پر شکار کی تلاش کے مختلف طریقے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ نیویارک میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب پاکستان سے تعلق رکھنے والا نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ایک نوجوان آفیسر ، فیس بک پر گاڑی بیچنے والے ایک ڈاکو کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

فیس بک کی مارکیٹ پلیس پر بڑی تعداد میں جہاں خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں کچھ لوگ جرائم پیشہ افراد کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔

فیس بک کی مارکیٹ پلیس پر بڑی تعداد میں جہاں خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں کچھ لوگ جرائم پیشہ افراد کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔

نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 26سالہ پولیس آفیسر عدید فیاض، ہفتے کی رات کو اپنے بہنوئی کے ہمراہ بروکلین کے علاقے روبی اسٹریٹ میں ایک کار خریدنے کے لیے پہنچے۔ وہ اس وقت آف ڈیوٹی تھے۔ ان کا کار بیچنے والے فیس بک مارکیٹ پلیس پر رابطہ ہوا تھا اور 24000 ہزار ڈالر میں معاملہ طے پایا۔ جب آفیسر فیاض گاڑی خریدنے طے شدہ مقام پر پہنچے تو گاڑی بیچنے والے شخص نے پستول نکال لیا اور رقم کا مطالبہ کیا۔ مزاحمت پر اس نے گولی چلا دی جو آفیسر فیاض کے سر میں لگی، ان کے بہنوئی نے ان کی گن استعمال کرتے ہوئے حملہ آور پر جوابی فائر کئے مگر وہ بھاگ نکلا۔

شدید زخمی حالت میں آفیسر فیاض کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ نیویارک شہر کے میئر اور این وائی پی ڈی کے اعلی حکام نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا اور پولیس فورس کو حملہ آور کی فوری تلاش کا حکم دیا گیا۔ پولیس کمشنر کیچانٹ سیوول (Keechant Sewell) نےمنگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مبینہ حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے جو شہر سے کچھ دور ایک موٹل میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ حملہ آور کا نام رینڈی جونز ہے اور اس کی عمر 38سال ہے۔ جونز اس سے پہلے تین بار مختلف جرائم میں گرفتار ہو چکا ہے۔

نیویارک شہر کے میئر ایرک ایڈمز ایک نیوز کانفرس میں سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

نیویارک شہر کے میئر ایرک ایڈمز ایک نیوز کانفرس میں سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

عدید فیاض گزشتہ پانچ سال سے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہیں۔ ان کے خاندان میں ان کی بیوی اور دو بچے شامل ہیں۔ مسلم آفیسر سوسائٹی کے صدر ڈپٹی انسپکٹر عدیل رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدید فیاض کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے آفیسرز مسلسل زخمی آفیسر کے خاندان کے ساتھ ہسپتال میں موجود ہیں اور ان کی فیملی کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہیں۔ عدیل رانا کے مطابق عدید فیاض کی حالت ابھی تک خطرے سے باہر نہیں ہے اور ان کو ساری کمیونٹی کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔

نیویارک کی پولیس کمشنر کیچنٹ سویل ایک نیوز کانفرنس میں۔ فائل فوٹو

نیویارک کی پولیس کمشنر کیچنٹ سویل ایک نیوز کانفرنس میں۔ فائل فوٹو

اس واقعے کے بعد گزشتہ روز نیویارک شہر کے میئر ایرک ایڈمز نے فاکس کے پروگرام گڈ ڈے نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے اس حملہ آور کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم کیا اور کہا کہ ہماری دعائیں اس آفیسر اور اس کے خاندان کے ساتھ ہیں اور یہ بد قسمت واقعہ نیو یارک شہر میں موجود ان1700 خطرناک ترین مجرموں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کو ہم ہائی لائٹ کرتے رہتے ہیں

۔ پولیس کے اعلی حکام کا کہنا تھا کہ پولیس شہر میں فیس بک مارکیٹ پلیس پر ہونے والی ڈکیتی کی اس قسم کی دیگر وارداتوں کی تفتیش بھی کر رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں